فرض کیجئے کہ آپ نے اپنی انگلیوں کو ہلکا سا کھول کر اپنا ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے رکھ لیا ہے۔ اب جب آپ اپنی انگلیوں کے ہیر پھیر میں سے دیکھنے کی کوشش کریں گے، تو آپ کی بینائی متاثر ہوگی اور دِکھنے کا عمل رُک جائے گا۔ جب تک آپ کا ہاتھ آپ کے چہرے کے سامنے رہے گا، آپ خواہ دیکھنے کے لئے کسی بھی طرف مڑیں، آپ کی نظر کا زاویہ آپ کی انگلیوں کے باعث بدلتا رہے گا۔ بالکل یہی حال میرے دِل میں نصب بُت کا بھی ہے۔ یہ بُت میری زندگی پر اپنا ایک ایسا ہی ناگزیر اثر و رسوخ قائم کر لیتا ہے۔ مَیں جہاں کہیں بھی جاؤں، مَیں جو کچھ بھی کر رہا ہوں، وہ بُت اِس بات پر اثر انداز ہوگا کہ مَیں کیا کرتا ہوں اور کس طرح کرتا ہوں۔ یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث خُدا فرماتا ہے کہ،
’’ بنی اِسرائیل میں سے ہر ایک جو اپنے بُتوں کو اپنے دِل میں نصب کرتا ہے اور اپنی ٹھوکر کِھلانے والی بدکرداری کو اپنے سامنے رکھتا ہے اور نبی کے پاس آتا ہے مَیں خُداوند اُس کے بُتوں کی کثرت کے مُطابِق اُس کو جواب دُوں گا ‘‘۔ (حزقی ایل ۱۴: ۴)