دعا کا جواب ملنے سے پہلے ہی قدم اٹھا نے کے لئے ایمان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے جان بیزاگنو ایک عمدہ کہانی پیش کرتے ہیں۔ ان کی پانچ سالہ بیٹی ایک دن ان کے پاس آئی اور گڑیا کے گھر کی خواہش کرنے لگی۔ پاسٹر بیزاگنو کہتے ہیں کہ ’’میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں جلد ہی تمہیں گھر بنا دونگا اور اس کے بعد فوراً واپس آ کر ایک موٹی اور ضغیم کتاب پڑھنے میں مگن ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر نظر دوڑائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری بیٹی اپنے ہاتھوں اور بازوئوں میں اپنے برتن، کھلونے ، گڑیائیں اور دوسری چیزیں لاتی جاتی ہے اور صحن کے ایک کونے میں انھیں اکٹھی کرتی جاتی ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو آواز دی اور اس سے پوچھا کہ وہ اپنے سارے کھلونوں کا وہاں ڈھیر کیوں لگا رہی ہے۔ میری بیوی نے جواب میں کہا آپ نے خود ہی تو اس سے وعدہ کیا ہے کہ میں تمہیں ابھی گھر بنا کر دیتا ہوں اور چونکہ وہ آپ کی بات پر یقین رکھتی ہے اسلئے وہ تیاری کرنے لگ گئی ہے۔ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اس بات نے باپ کے دل پر کیا اثر کیا اور اس نے گڑیاگھر بنانے میں کتنی جلدی کی۔ مصنف لکھتے ہیں کہ میں نے فوراً یہ بات سن کر اس کتاب ایک طرف پھینکا اور صحن کی طرف بھاگا اور بیٹی کو گھر بنا کر دیا‘‘۔