اگر ہمارے دل میں کسی کے خلاف کوئی چھوٹا سا شکوہ شکایت بھی ہوتو وہ بھی ہماری دعائیہ زندگی کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے جیسا کہ ورجینیا وہٹمین ہمیں بتاتی ہیں۔ وہ ہمیں کینساس سٹی کے فیرفیکس ائیر پورٹ پر رونما ہونے والے اس واقعے کے بارے میں بتاتی ہیں جو کئی سالوں پہلے وہاں پر پیش آیا تھا۔ ائیرپورٹ کے سیکیورٹی روم میں ایک ایسا کمرہ تعمیر کرنا مقصود تھا جہاں پر بجلی سے چلنے والی تمام چیزوں کے داخل ہوتے ہی سرخ روشنی جل اٹھے۔ ایسا کام انجام دینے کے لئے انھوں نے جدید ترین تعمیراتی تکنیک کے ماہرین کو بلایا اور کام شروع ہو گیا۔ کئی دن گزر گئے اور آخر کار کام مکمل ہوجانے کی اطلاع دے دی گئی۔ ائیر پورٹ مینیجر نے آکر آخری چیکنگ کی جس کے بعد اس کمرے کو پوری طرح فنکشنل قرار دے کر استعمال کے لئے کھول دیا جانا تھا۔ اس کمرے کے اندر مسافروں کی چیکنگ کی طرز پر کئی مختلف چیزیں لائی گئیں اور شروع شروع میں توسب ٹھیک چلتا رہا مگر تھوڑی دیر بعد جوں جوں ہی بجلی کے آلات کمرے میں لائے جاتے سرخ روشنی جلنا بند ہوجاتی۔ یہ بڑی خرابی تھی کیونکہ اس ساری کوشش سے یہی پتہ چلانا مقصود تھا کہ کہیں کوئی مسافر اپنے سازوسامان میں بجلی کے آلات جہاز میں لے نہ جائے۔ مینیجر طیش میں آ گیا اور بولا کہ اس خرابی کو فوراً دور کیا جائے مگر کافی دیر تک ڈھونڈنے کے بعد بھی خرابی کا کوئی سراغ نہ ملا۔ چنانچہ دوبارہ اکھاڑ پچھاڑ کی گئی اور بالآخر بڑی محنت اور تلاش کے بعد ایک تار کے اندر خرابی سامنے آگئی۔ وہ خرابی محض ایک پنسل کے نقطے کے برابر تار کے اندر کٹ لگ جانے کی وجہ سے پیش آ رہی تھی۔ اس تار کو واپس مضبوطی سے جوڑ دیا گیا اور یوں سارا کام مکمل ہو گیا اور منیجر نے اس کام کو پسند کرکے کام شروع کراد یا۔ اس کہانی میں دیکھتے ہیں کہ الیکٹریشن کی ایک معمولی سی غلطی کے باعث سارا کام چوپٹ ہو کر رہ گیا تھا ۔ مسز وہٹمین اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ ’’ایک برا خیال، کوئی تنقیدی سوچ، کوئی بری سوچ، کوئی برائی، کوئی شک ، حوصلہ شکنی ، یا بغاوت کا پنسل کی نوک جتنا نشان بھی خدا کے ساتھ ہمارے رابطے کو منقطع کر سکتا ہے‘‘۔