مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد مسیح جب آسمان پر اٹھایا گیا تو اس حوالے سے جدید تناظر میں ایک تمثیل بیان کی جاتی ہے۔ آسمان پر ایک بڑا جشن منعقد کیا گیا اور سب فرشتے جمع ہو گئے۔ جشن کی خوشیاں منانے کے دوران فرشتوں نے خد اکے بیٹے یسوع کے گرد جمع ہو کر اس سے پوچھا کہ بتا زمین پر جانے کا تجربہ کیسارہا اور کیسے کیسے واقعات رونما ہوئے۔ مسیح نے فرشتوں کو سب بتایا کہ کیسے اس نے بیماروں کو چنگا کیا، مردوں کو زندہ کیا اور ہزاروں لوگوں کے لئے معجزات کئے۔ پھر وہ انھیں اپنی مصلوبیت کی کہانی سناتا ہے کہ کس طرح میں نے انسان کے لئے صلیب پر جان دی تاکہ انسان گناہ کی غلامی سے آزاد ہو جائے۔ وہ انھیں یہ بھی بتاتا ہے کہ کس طرح وہ تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھا۔ جب یسوع کی بات ختم ہوئی تو پورے آسمان پر گویا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اچانک ایک فرشتے نے کہا ’’خداوند! اب ہماری باری ہے ۔ ہم بھی تیرے کام میں شریک ہونا چاہتے ہیں ۔ ہم زمین پر جائیں گے اور ساری دنیا کو بتائیں گے کہ تو نے ان کے لئے کیا کچھ کیا ہے‘‘۔
خداوند نے خاموشی سے اپنا سر ہلایا اور کہا ’’نہیں! ایسا ممکن نہیں۔‘‘
سارے فرشتے حیران ہوگئے ۔ ایک اور فرشتے نے پوچھا ’’تو پھر تو اپنے اس کفارے کا پیغام ساری دنیا تک کیسے پھیلائے گا؟‘‘
مالک نے بڑے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا ’’میں نے یہ ذمہ داری گیارہ ماہی گیروں کے سپرد کر دی ہے۔‘‘
فرشتوں کے چہروں پر سوالیہ نشان بن گئے مگر ایک فرشتے نے پوچھ ہی لیا ’’ لیکن اے خداوند! اگر انسان پھر ناکام ہو گیا تو؟‘‘
یسوع نے جواب میں کہا ’’میرے پاس اس کے سوا اور کوئی منصوبہ نہیں ہے!‘‘