مجھے ایک کہانی یاد آتی ہے کہ بحری جہازوں کی ایک کمپنی کو ٹیلی گراف آپریٹر کی ضرورت تھی۔ دلچسپی رکھنے والے درخواست کنندگان کو مطلع کیا گیا کہ وہ فلاں دن آ کر ملازمت کے لئے انٹرویو دیں۔ بہت سے لوگ مقررہ وقت پر پہنچ گئے اور جلد ہی انتظار گاہ کی خاموشی بات چیت کی آوازوں سے گونجنے لگی۔ تمام امیدواران بلائے جانے کے انتظار میں بیٹھے تھے اور آپس میں محوِ گفتگو تھے مگر ان میں سے صرف ایک شخص نے کونے میں لٹکنے والے ایک لائوڈ اسپیکر پر نقطوں اور لکیروں کے لکھے جانے کی آواز سنی ۔ وہ فوراً چھلانگ لگا کر اپنی جگہ سے اٹھا اور سامنے ہی موجود دفتر کے اندر گھس گیا۔ تھوڑی دیر جب وہ وہاں سے باہر نکلا تو اس کے چہرے پر ایک کامیاب مسکراہٹ تھی۔ اسے نوکری مل گئی تھی!
باقی امیدواران یہ سارا منظر دیکھ کر حیران ہو گئے اور کچھ تو شکوہ کرنے لگے کہ ہمیں تو بتایا اور بلایا ہی نہیں گیا حالانکہ ہم تو عین مقررہ وقت پر یہاں پہنچ گئے تھے ۔ جلد انٹرویو لینے والا آفیسر وہاں آ پہنچا اور اس نے انھیں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب آپ سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے میں مصروف تھے تو عین اسی دوران دفتر کے دروازے کی ایک طرف کونے میں لگے ہوئے لائوڈ اسپیکر سے مورس کوڈ میں اندر آجانے کا پیغام بھیجا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جو پہلا شخص اس پیغام کو سن کر دفتر میں آ ئے گا اس کی نوکری پکی! اور صرف اسی شخص نے دھیان سے اس ہلکے اور دھیمے پیغام کو سنا اور سب سے پہلے دفتر کے اندر داخل ہو گیا تھا اسلئے اسے نوکری پر رکھ لیا گیا ہے۔
دعا میں شنوا ہونے والے لوگ بالآخر خدا کی قدرت کے بھیدوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم صرف تب سیکھتے ہیں جب ہم سنتے ہیں۔ جے آر ملر بیان کرتے ہیں کہ ’’کسی شخص میں خاموش رہنے کی قابلیت اس کی طاقت ہوتی ہے۔ شور کرنا فصاحت نہیں ۔ بلند آواز سے بولتے جانا ہماری قابلیت کو ظاہر نہیں کرتا۔ زندگی کے تمام حصوں میں خاموش رہنے والی قوتیں زیادہ مؤثر اور زور آور ہوتی ہیں۔ اسلئے اگر ہم بھی زور آور بننا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی خاموش رہنے کا فن سیکھنا ہوگا۔ خاموش رہنے والے شخص کی زندگی میں بھی ہرطرف خاموشی اور سکون رہتا ہے‘‘۔