نارمن ونسنٹ پیلے ایک کہانی بیان کرتے ہیں جس میں اس معاملے کی ایک عمدہ مثال پیش کی گئی ہے۔ بچپن کی کھلنڈری عمر میں پیلے کو کہیں سے ایک سگار ہاتھ لگ گیا۔ انھوں نے ادھر ادھر دیکھا اور ایک کونے میں جا کر اس سگار کو جلانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر پیلے بتاتے ہیں کہ شروع شروع میں اس کا ذائقہ بہت کڑوا اور عجیب سا تھا لیکن جیسے جیسے وہ اس کے کش لگاتے گئے اس کا ذائقہ مزیدار ہوتا چلا گیا اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے آپ کو ایک جوان آدمی تصور کرنے لگے۔ ابھی وہ اسی تصور میں کھوئے ہوئے تھے کہ انھیں دور سے اپنے والد آتے ہوئے دکھائی دئیے۔ انھوں نے جلدی سے اس سگار کو بجھانے کی کوشش کی مگر تب تک ان کے والد سر پر پہنچ چکے تھے اسلئے انھوں نے جلدی سے ہاتھ اپنی کمر پر لے جا کر سگار اپنے پیچھے چھپا لیا۔ انھوں نے باپ کے سامنے نارمل رہنے کی پوری کوشش کی۔ اپنے باپ کی توجہ ہٹانے کے لئے انھوں نے سڑک کے کنارے ایک بڑے سے بورڈ کی طرف اشارہ کیا جس پر شہر میں لگنے والی سرکس کا اشتہار آویزاں تھا اور کہنے لگے ،
’’ڈیڈ ، کیا میں وہاں جا سکتا ہوں؟ مجھے بھی سرکس دیکھنے جانا ہے۔ پلیز مجھے بھی سرکس میں لے کر جائیں ناں!پلیز ڈیڈ !‘‘
ان کے والد کے جواب میں جو سبق پنہاں ہے وہ تمام دعائیہ جنگجو ایمانداروں کے لئے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
’’بیٹا تمہیں زندگی کے بارے میں سب سے پہلا سبق یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کبھی اپنے پیچھے کوئی دھواں چھوڑتی ہوئی نافرمانی چھپاتے ہوئے باپ سے کوئی اور چیز مانگنے کی کوشش نہیں کر نی چاہئے‘‘۔