اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

باپ، محبت، یوتھ

ہارنے کے باوجود محبت کا اظہار

49 26 Aug, 2025
جب میرا بڑا بیٹا بارہ سال کا تھا تو وہ اپنے ہم عمر کھلاڑیوں کی باسکٹ بال ٹیم میں کھیلا کرتا تھا ۔ سیزن شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل مَیں نے سوچا کہ اُسے اور اُس کے ساتھی کھلاڑیوں کے سامنے قبولیت کا عملی اظہار کروں ۔ مَیں نے ایک مقامی ریستوران سے آئس کریم کے بارہ کوپن خریدے اور اُنہیں اُس کے کوچ کے پاس لے گیا ۔ مَیں نے کہا، ’’کوچ صاحب، یہ کوپن اِن سب بچوں کے لئے ہیں ۔ ‘‘ کوچ مسکرا دیا ۔ ’’کیا بات ہے ۔ کاش دوسرے بچوں کے باپ بھی ایسی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ۔ مَیں پہلی جیت کے فوراً بعد اِنہیں آئس کریم کھلانے لے جاءوں گا ۔ ‘‘ ’’نہیں کوچ صاحب ۔ مَیں چاہتا ہوں کہ آپ پہلی ہار کے بعد اِنہیں آئس کریم کھلانے لے جائیں ۔ ‘‘ یہ سن کر کوچ پریشان ہو گیا ۔ اُسے میری منطق سمجھ نہیں آ رہی تھی اور وہ سمجھا کہ شاید مَیں ہار جیت اور اچھے کھیل کے انعامات کے بارے میں شاید کچھ نہیں جانتا ۔ ’’کوچ صاحب، مجھے آپ کا تو پتہ نہیں البتہ مَیں نے اپنے بچوں کی پرورش اِس طرح سے کی ہے کہ مَیں اُن کی کوشش اور جدوجہد پر بھی اُنہیں اتنی ہی داد دیتا ہوں جتنا کہ اُن کی کامیابی کو ۔ اور مَیں اُن کی کوشش کو بھی اِس لئے سراہتا ہوں کیونکہ مَیں جانتا ہوں اِن میں سے ہر ایک کو خدا نے اپنی شبیہ پر بنایا ہے ۔ مَیں ایمان کی حد تک یہ سمجھتا ہوں کہ میرا بیٹا بھی خدا کی صورت پر بنایا گیا ہے اور اُس کی اِس لامتناہی قدر، تکریم اور قیمت کوباسکٹ بال جیسے کھیل کی ہار جیت سے گھٹایا بڑھایا نہیں جا سکتا ۔ اگر وہ زندگی بھر باسکٹ بال کی ایک بھی لیگ نہ کھیلے تو بھی میرے دِل میں اُس کے لئے محبت اور قبولیت کا جذبہ رتی برابر کم نہیں ہوگا ۔ ‘‘ میرے بیٹے کا کوچ کافی دیر تک مجھے ایک ٹُک گھورتا رہا اور پھر گویا ہوا ، ’’واہ، یہ تو بڑی اچھی سوچ ہے ۔ ‘‘ جیسے ہی کھیلوں کے میچ شروع ہوئے تو شون کی ٹیم پہلے چند مقابلوں میں یکے بعد دیگرے جیت حاصل کی ۔ مگر تیسرے یا چوتھے مقابلے میں وہ ہار گئے اور کوچ نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ اُس نے ہر کھلاڑی کو آئس کریم کوپن دیا اور وہ سب اکٹھے ہو کر ’’جشن منانے‘‘ اُس ریستوران میں گئے ۔ میرے بیتے نے اِس محبت کا اظہار کرنے پر لگ بھگ پانچ مرتبہ میرا شکریہ ادا کیا اور پھر اگلے دو ہفتوں تک اُس کی ٹیم کے باقی سب دوست بھی باری باری آ کر میرا شکریہ ادا کرتے رہے ۔ مجھے اُن میں سے ایک لڑکے کے الفاظ آج بھی یاد ہیں جس نے کہا، ’’جناب ، اِس قدر لذیذ آئس کریم کھلانے کے لئے بہت بہت شکریہ ۔ واہ! آپ واقعی دلچسپ انسان ہیں کہ ہم خواہ جیتیں یا ہاریں آپ پھر بھی ہم سے محبت رکھتے ہیں ۔ ‘‘