دعا میں دلیری کے حوالے سے مارٹن لوتھر کی ایک مثال کچھ اس طرح پیش کی جا سکتی ہے۔ ۱۵۴۰ء میں لوتھر کا ایک قریبی دوست فریڈرک مائیکونیس شدید بیمار پڑا۔ مائیکونیس کو بیماری کی شدت کے سبب سے اپنی موت صاف دکھائی دینے لگی اور اس نے لوتھر کو ایک الوداعی خط لکھ دیا۔ اس عظیم مصلح مارٹن لوتھر نے بڑا دلچسپ جواب دیا۔ اس نے جواب میں یہ زور دار بات لکھی: ’’میں تجھے خدا کے نام سے حکم دیتا ہوں کہ تو جیتار ہ کیونکہ کلیسیا کی اصلاح کے کام میں مجھے ابھی تیری بہت ضرورت ہے ۔۔۔ خداوند مجھے تب تک وہ دن نہیں دکھائے گا جب میں تیری موت کی خبر سنوں گا بلکہ تو مجھے زندہ رہنے کا حوصلہ دے گا۔ یہ میر ی دعا ہے ، یہی میں چاہتا ہوں اور ایسا ہی ہوگا کیونکہ میں خدا کے نام کو جلال دینے کے لئے یہ سب کچھ کہہ رہا ہوں۔‘‘ تاریخ بتاتی ہے کہ جب لوتھر نے یہ خط لکھا تھا تو اس کے دوست کی حالت نہایت بگڑ چکی تھی اور افاقے کی کوئی صورت باقی نہیں تھی۔ اس کا دوست قوتِ گویائی کھو چکا تھا۔ موت سر پر منڈلا رہی تھی۔ مگر ایک معجزہ ہوگیا۔ دھیرے دھیرے زندگی لوتھر کے دوست کے مرد ہ ہوتے ہوئے بدن میں اترنے لگی اور جلد ہی وہ مکمل شفا یاب ہو گیا۔ اور حیرانی کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مائیکونیس مارٹن لوتھر کے مرنے کے بعد بھی مزید دو مہینے جیتا رہا اور یوں اس نے خود لوتھر سے زیادہ لمبی عمر پائی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ لوتھر کی دعا دوست کی بیماری پر غالب آئی! یقینا ایسی دعا کے ذریعہ سے دنیا میں بڑی تبدیلی لائی جا سکتی ہے !