سفر دشوار تھا آساں ہوا ہے
عامر زریں
غزلیات
مطالعات: 132
پسند: 0
سفر دشوار تھا آساں ہوا ہے
خدائے پاک جب انساں ہوا ہے
میرے آنگن میں ہے ہر سو تجلی
مسیح پاک جو مہماں ہوا ہے
نہیں ہیں قید و بند کی صعوبتیں اب
مسیحا دار پہ قرباں ہوا ہے
مٹائے زندگی کے رنج سارے
مسیح مجتبیٰ درماں ہوا ہے
لیے سب زخم عصیاں اپنے تن پہ
تبھی رخت جاں ارزاں ہوئے
کیا دار و رسن پہ خود کو عاجز
نجات بشر کا ساماں ہوا ہے
واپس جائیں