ستارے راہ میں بچھا رہے ہیں
عامر زریں
غزلیات
مطالعات: 165
پسند: 0
ستارے راہ میں بچھا رہے ہیں
وصل کے گیت دیکھو گا رہے ہیں
محبت ہی محبت ہے سراپا
وہ نغمے رنگ و بو کے گا رہے ہیں
نہیں ہو ہوش میں تم کھوئے کھوئے
کہاں سے آپ حضرت آ رہے ہیں
بھلا بیٹھے جو قصے داستاں سب
تو پھر کیوں وہ سبھی دہرا رہے ہیں
ہوئے کیوں سرخ عارض یہ بتاؤ
کیوں ذکر یار پہ شر ما رہے ہیں
فتح کر کے محبت میں مجھے وہ
علم ہر جا وہ اب لہرا رہے ہیں
ضرورت تھی جنہیں مہر و وفا کی
وفاؤں کے چمن مر جھا رہے ہیں
چلیں اب آ ہی جائیں نظر عامر
پس آئینہ کیوں تڑ پا رہے ہیں
عجب موسم خزاں کے چار سو ہیں
میرے من کو وہ عامر بھا رہے ہیں
واپس جائیں