اب محبت کی تجارت چھوڑ دے
عامر زریں
غزلیات
مطالعات: 146
پسند: 0
اب محبت کی تجارت چھوڑ دے
بے وجہ ہم پر عنائت چھوڑ دے
راہ کو سنگ گراں سے پاک کر
پرعزم ہو اب نزاکت چھوڑ دے
پوچھ مت روح کی سیاحت کا بیاں
روح کی کرنا حفاظت چھوڑ دے
گر مٹے نہ بھوک بے گھر کی یہاں
صاحب زر تو سخاوت چھوڑ دے
قدرتی آفات نے بے بس کیا
کر دعا ان کی مزاحمت چھوڑ دے
دردِ انساں کا نہیں احساس گر
تو نمازیں اور امامت چھوڑ دے
قید کر بےشک پرندوں کو صیاد
ان کے بچوں کو مگر تو چھوڑ دے
واپس جائیں