جب ہوا بارشوں میں چلتی ہے
وہ درختوں کے ساتھ ہنستی ہے
۔۔۔
اُس کے لہجے کی لَو بدن کی ضَو
رات کے پیرہن سے جھانکتی ہے
۔۔۔
اُس کے گہرے وصال دریا میں
جسم ڈُوبا ہے روح پیاسی ہے
۔۔۔
وہ مرے ساتھ میری خوشبو میں
پتی پتی بکھرتی جاتی ہے
۔۔۔
ادھ کھلی کھڑکیوں کی خاموشی
آسمانوں کے راز جانتی ہے
۔۔۔
رتجگوں کی اُداس برکھا میں
زندگی بوند بوند جلتی ہے