ہَوا ہُوں نہ روکے کوئی
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 73
پسند: 0
ہَوا ہُوں نہ روکے کوئی
مرے ساتھ آئے کوئی
۔۔۔
میں صورت نہیں ہوں، مجھے
زمیں پر نہ ڈھونڈے کوئی
۔۔۔
میں بےلفظ آواز ہوں
مُجھے کیسے لکھے کوئی
۔۔۔
میں شاخِ تہہ سنگ ہوں
مرے پُھول دیکھے کوئی
۔۔۔
ابھی رات ہے شہر میں
دیا مَت بُجھائے کوئی
۔۔۔
وہ خوشبو کی پرچھائیں ہے
نہ دیکھے نہ لپٹے کوئی
۔۔۔
زمیں پر پیالہ سا ہے
سمندر اُلٹ دے کوئی
واپس جائیں