حیرتِ معنی سے ڈر جاتا ہوں
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 118
پسند: 0
حیرتِ معنی سے ڈر جاتا ہوں
لفظ کے ساتھ بکھر جاتا ہوں
۔۔۔
سایۂ ابر کا پیچھا کرتے
شہر سےپیاسا گُزر جاتا ہوں
۔۔۔
آسمانوں کی طرف تکتے ہوئے
بانجھ مٹی میں اُتر جاتا ہوں
۔۔۔
آئینے دیتے ہیں ترتیب مُجھے
اس طرح اور بِکھر جاتا ہوں
۔۔۔
کوئی صُورت ہو کہ منظر کوئی
راہ روکے تو ٹھہر جاتا ہوں
۔۔۔
جب کرن پُھولوں کو چُھو کر گزرے
ایسا ہوتا ہے کہ مَر جاتا ہوں
واپس جائیں