آؤ ہم تُم بھی ان گرتے پتوں میں چُھپ جائیں
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 99
پسند: 0
آؤ ہم تُم بھی ان گرتے پتوں میں چُھپ جائیں
کئی دنوں کے بعد ملی ہیں شاخیں اور ہوائیں
۔۔۔
دُور دُور تک برس رہا ہے بارش کا سناٹا
سناٹے سے اُبھر رہی ہیں تیری میری صدائیں
۔۔۔
آج تو آنکھوں میں جلتے ہیں آنسو اور ستارے
آج کی شب تو تُم ہی بولو جاگیں یا سو جائیں
۔۔۔
نیم شبی اور نیم لباسی اس پر تری اُداسی
آج تو دل کہتا ہے تُجھ سے لپٹیں اور مر جائیں
۔۔۔
کیسی خوش منظر لگتی ہے اب کے رُت پُھولوں کی
جیسے لوگ ہوا میں زخمی ہاتھوں کو لہرائیں
واپس جائیں