دھیان میں لفظ رہے ہاتھ رہا کاغذ پر
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 76
پسند: 0
دھیان میں لفظ رہے ہاتھ رہا کاغذ پر
دائرے بنتی رہی تیز ہوا کاغذ پر
۔۔۔
آتے جاتے رہے بیکار یونہی رات اور دن
لکھ کے ہم بیٹھے رہے کوئی دعا کاغذ پر
۔۔۔
رات بھر لکھتے رہے ہاتھ نہ جانے کیا کیا
صبح دیکھا تو کوئی حرف نہ تھا کاغذ پر
۔۔۔
اِک عجب شکل تھی جو آنکھ سے دیکھی نہ گئی
اِک عجب اِسم تھا جو پھیل گیا کاغذ پر
۔۔۔
کس طرح ثبت ہوئے نقشِ قدم کرنوں پر
کیسے تحریر ہوئی شکلِ ندا کاغذ پر
۔۔۔
بُوند صحرا میں گِری شور ہُوا دریا میں
آگ شاخوں میں لگی، پُھول کھلا کاغذ پر
واپس جائیں