راستے اکیلے تھے، سایہ ڈھلتا جاتا تھا
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 93
پسند: 0
راستے اکیلے تھے، سایہ ڈھلتا جاتا تھا
شام تھی بیاباں کی گھر بھی یاد آتا تھا
۔۔۔
دُور تک برستی تھی دُھند سی خیالوں میں
دُھند میں کوئی جیسے آئینہ دکھاتا تھا
۔۔۔
تیری یاد آتی تھی، دل میں سات رنگوں کا
ایک دائرہ جیسے بن کے پھیل جاتا تھا
۔۔۔
آج وہ گلی جیسے ختم ہی نہ ہوتی تھی
ادھ کُھلے دریچے سے ہاتھ وہ ہلاتا تھا
۔۔۔
ایک دوسرے کا منہ دیکھ دیکھ روتے تھے
شام تھی جُدائی کی کُچھ کہا نہ جاتا تھا
واپس جائیں