جس طرح شعلے کو ہوا لے جائے
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 97
پسند: 0
جس طرح شعلے کو ہوا لے جائے
کوئی آئے مُجھے اُڑا لے جائے
۔۔۔
نقشِ پا ہے کہیں نہ صوتِ جرس
اب جہاں چاہے راستا لے جائے
۔۔۔
سبزہ و گُل زمیں کا رزق بنے
ساحلوں کی نمی گھٹا لے جائے
۔۔۔
شوقِ دیدار نذرِ حیرت ہو
صورتیں عکسِ آئینہ لے جائے
۔۔۔
اس خرابے سے کوئی جاتے ہوئے
ساتھ اپنے سفر میں کیا لے جائے
۔۔۔
اب تو اُس تک کوئی خبر اپنی
ابر لے جائے یا صبا لے جائے
واپس جائیں