حصارِ ابر سے سُورج نکلنے والا ہے
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 75
پسند: 0
حصارِ ابر سے سُورج نکلنے والا ہے
نظر اُٹھاؤ کہ منظر بدلنے والا ہے
۔۔۔
پسِ فصیلِ خموشی صدائیں کیسی ہیں؟
سُنو کہ درد کا چشمہ اُبلنے والا ہے
۔۔۔
کہو کہ پہلی کرن تیغ بننے والی ہے
کہو کہ آخری تارا نکلنے والا ہے
۔۔۔
بکھرنے والے ہیں صُبحوں کے پر ہواؤں میں
سمندروں میں اندھیرا پگھلنے والا ہے
۔۔۔
پُکارتے ہیں در و بام قتل گاہوں کے
ہجومِ شہر گھروں سے نکلنے والا ہے
۔۔۔
کہو کہ گرنے لگے ہیں چراغ ہاتھوں سے
کہو کہ پردۂ محراب جلنے والا ہے
واپس جائیں