دیتا نہیں جہاں میں کوئی دوستی کا ساتھ
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 119
پسند: 0
دیتا نہیں جہاں میں کوئی دوستی کا ساتھ
دیتا ہے اجنبی ہی مگر اجنبی کا ساتھ
۔۔۔
ظلمت میں پستیوں کی، اندھیروں کی گود میں
ابنِ خدا نے آ کے دیا آدمی کا ساتھ
۔۔۔
کیسی عجیب بات ہے سُولی کے آس پاس
اک آدمی بھی دے نہ سکا راستی کا ساتھ
۔۔۔
اے نازشِ صلیب تری جراتوں کی خیر
ہر ظلم تُو نے سہہ کے دیا کلوری کا ساتھ
۔۔۔
مشکل کے وقت کوئی مسیحا نہ بن سکا
خود بیکسی بھی دے نہ سکی بیکسی کا ساتھ
۔۔۔
اس بے گنہ کے حال پہ روتا تھا آسماں
تجھ سے شرر دیا نہ گیا ناصری کا ساتھ
واپس جائیں