خون اُبلتی ہو زمیں تو ایسی دھرتی سے نکل
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 111
پسند: 0
خون اُبلتی ہو زمیں تو ایسی دھرتی سے نکل
زندگی مقصود ہے تو بانجھ مٹی سے نکل
۔۔۔
ہر نئے رنگیں اُجالے میں چھپی ہے تیرگی
خود فریبی کے گھنے سائے کی مُٹھی سے نکل
۔۔۔
باغباں کے رُوپ میں یہ لُوٹنے والے ہیں کون؟
بے مروت ناخداؤں کی اسیری سے نکل
۔۔۔
ظلم بڑھتا جا رہا ہے تیری راہوں میں اگر
قہر برساتی ہوئی وادی سے گھاٹی سے نکل
۔۔۔
عدل کی اندھی فصیلوں میں جنم لیتا ہے خوف
خون میں بھیگی ہوئی عادل کی چھتری سے نکل
۔۔۔
آگ میں تپ تپ کے بھی ایماں ترا پختہ نہیں
خود نمائی کی شرر انگیز بھٹی سے نکل
۔۔۔
دوستوں پر جب گزرتا ہے گراں تیرا پیام
اے شرر اس قوم کی صحبت سے بستی سے نکل
واپس جائیں