بگولے ہی بگولے ہیں فصلِ گُل سے ہیں بہاراں تک
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 115
پسند: 0
بگولے ہی بگولے ہیں فصلِ گُل سے ہیں بہاراں تک
اندھیرے ہی اندھیرے مصر سے ہیں شہرِ کنعاں تک
۔۔۔
تہہ و بالا مقدس بستیاں ہوں گی اسیروں کی
ہمارے نقشِ پا ہوں گے گلستاں سے بیاباں تک
۔۔۔
دعا کا قتل ہو گا اور عقیدہ سرخرو ہو گا
اُمیدیں چاک ہوں گی جیب سے لے کر گریباں تک
۔۔۔
سفینے ڈوب جائیں گے ہوس کے ناخداؤں کے
ہمارا خون اُمڈے گا لبِ ساحل سے طوفاں تک
۔۔۔
بکھر جائیں گی لاشیں جن پہ ماتم تک نہیں ہو گا
فقط چیلوں کی ہو گی دسترس کوہِ صلیباں تک
۔۔۔
حقائق کے پجاری عہدِ نو میں روشنی ڈالیں
سیاست سے ہے کتنا فاصلہ خونِ شہیداں تک
۔۔۔
شررؔ جا کر کہو حفظِ خودی کے رہنماؤں سے
نہ پہنچی شمعِ ایماں کی ضیا شامِ غریباں تک
واپس جائیں