حیات و مرگ کے پُر نور انسانوں میں ڈھل جاؤ
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 123
پسند: 0
حیات و مرگ کے پُر نور انسانوں میں ڈھل جاؤ
اگر جینا ہے تو سُولی کے عنوانوں میں ڈھل جاؤ
۔۔۔
تمہیں آخر اُترنا ہے بلند و بالا ہیکل سے
اُترآؤ، اُتر کر میرے پیمانوں میں ڈھل جاؤ
۔۔۔
نشیمن جل رہا ہے اب یہی بچنے کی صورت ہے
اگر قلزم سے بچ نکلے بیابانوں میں ڈھل جاؤ
۔۔۔
یہوداؤں کی محل میں تمہاری قدر کیا ہو گی
جہاں سُولی کے دیوانے ہیں دیوانوں میں ڈھل جاؤ
واپس جائیں