جادہؑ حق سے پلٹنے کا ارادہ ہی نہیں
ہم کو بڑھنا ہے، ٹھہرنے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
تنگ دالانوں سے گلیوں سے گزر جائیں گے
چوڑے رستوں سے گزرنے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
ہم وفادار، رہِ عشق میں دم توڑیں گے
دار نظروں میں ہے جینے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
اے فقیہانِ جہاں اور حریفانِ زماں
تم سے اب ملنے ملانے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
کنجِ زنداں میں بکھر جائیں گے دل کے ٹکڑے
پاسبانوں پہ بھروسے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
منتظر اپنی صلیبوں کی قطاریں ہیں بہت
کوہِ صیحوں سے اُترنے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
تیر پسلی پہ مری مارنے والو، نہ ہنسو!
نزع کے وقت تڑپنے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
ہم دُعا دیتے ہیں اُن کو جو ستاتے ہیں ہمیں
گالیاں کھا کے بپھرنے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
وادیؑ موت کے خیموں میں چلے جائیں گے
باغِ گتسمنی میں سونے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
ہم ہیں اک سنگِ گراں عدن کی ہریالی پر
اوس کی مثل پگھلنے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
شوقِ کنعاں ہے تو قلزم میں اُتر جائیں گے
صورتِ حال سے ڈرنے کا ارادہ ہی نہیں
۔۔۔
عزم سے اُس کے ہے بے کار اُلجھنا یارو
ہے شررؔ نام تو بجھنے کا ارادہ ہی نہیں