کلوری کی راہ سے درپیش تھا لمبا سفر
سولیوں کی رفعتوں پر ہو گیا لمبا سفر
۔۔۔
تیل کے بدلے جلائیں گے چراغوں میں لہو
ختم ہو گا روشنی دے دے کے یہ اپنا سفر
۔۔۔
بے ریا علم و عمل سے ڈھونڈ لے راہِ نجات
منجی مصلوب منزل ہے تو ہے رستہ سفر
۔۔۔
کڑکڑاتی دھوپ کی یہ تیز کرنیں، الامان
ہر نئے دن کے جلو میں ہے رواں تپتا سفر
۔۔۔
گوشۂ دل میں بسا کر سولیوں کی روشنی
دیکھنا آسان ہو جائے گا یہ لمبا سفر
۔۔۔
تنکے چنواتا ہے ان سے بھی زمانہ ایک دن
ہم اسیروں کو عطا کرتا ہے جو اندھا سفر
۔۔۔
نیتیں بد ہوں تو ہو جاتے ہیں لمبے راستے
نیک نیت ہو تو کٹ جاتا ہے ہر لمبا سفر
۔۔۔
شرط ہے عزمِ جواں، ذوقِ یقیں، جوشِ عمل
ہو مصیبت بھی تو کٹ جاتا ہے ہر تنہا سفر
۔۔۔
یہ شریعت کے محافظ، قوم کے یہ راہنما
سوچتے بھی ہیں ہمیں درپیش ہے کیسا سفر
۔۔۔
موت برحق ہے تو مرنے سے ڈور مت دوستو
دار پر مر کر کہو، ’’پورا ہوا‘‘ اپنا سفر
۔۔۔
جو بشارت کے عوض پاتے ہیں مال و زر شررؔ
کیا خبر ان کو صلیبی موت ہے کیسا سفر