شعلے ہیں ناصری کے ہوائیں بجھائیں کیوں
ارنسٹ مل
غزلیات
مطالعات: 184
پسند: 0
شعلے ہیں ناصری کے ہوائیں بجھائیں کیوں
خادم ہیں ہم خدا کے بلائیں ڈرائیں کیوں
1
آنکھوں میں روشنی ہے خداوند کے پیار کی
قاصد ہیں راستی کے نہ روحیں بچائیں کیوں
2
تازہ مسح میں بھیگی قبائیں ہیں زیب تن
فتح سے بڑھ کے غلبہ نہ شیطاں پہ پائیں کیوں
3
یسوع کے خونِ پاک کے چھینٹوں کے ساتھ ساتھ
روح القدس گواہ ہے کہیں اَور جائیں کیوں
4
ملؔ کو خدا نے چن لیا اپنا بنا لیا
ابنِ خدا کے گیت نہ قوت سے گائیں کیوں
واپس جائیں