اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

اولاد، اختیار، بچے، تربیت، سنڈے اسکول، عورت، ماں، نظم و ضبط

ایک نہایت ضدی بچی اور اُس کی ماں

2 15 Jun, 2026
ایک چھوٹی بچّی نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ وہ بے حد خوبصورت بچّی تھی۔ اُس کے لباس اور زیبائش کا ہر ایک پہلو پُرآسائش دولتمندی کا پتہ دیتا تھا۔ وہ اور اُس کی ماں، میری ہی طرح، فلائٹ کے اِنتظار میں بیٹھے تھے۔ اِس بچّی کا حسن محض ظاہری تھا، کیونکہ وہ اِنتہائی ضدی اور چِڑ چڑی تھی۔ یہ بالکل واضح تھا کہ اُس کی ماں، جو سفر کی وجہ سے اِنتہائی تھک چکی تھی، اب اپنے اِختیار کو اِستعمال کرنے کے موڈ میں تھی۔ وہ بچّی مسلسل اصرار کرتی رہی، اِس اور اُس چیز کا تقاضا کرتی رہی، اور کسی صورت پرسکون ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اُس کی ماں نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔ لیکن بچّی اِنتہائی ضدی بنی رہی۔ پھر اچانک وہ واقعہ پیش آیا۔ تنگ آ کر، ماں آخرکار اُس پر برس پڑی۔ اُس نے کہا، ”مَیں تم سے بہت تنگ آ چکی ہوں۔ مجھے تم سے نفرت ہے۔ یہاں سے چلی جاؤ۔ چیخنے چلانے کے لئے کوئی دُوسرا ڈھونڈو۔ مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مَیں تمہیں برداشت نہیں کر سکتی۔ میری نظروں سے دُور ہو جاؤ،“ اُس نے ہاتھ سے اِشارہ کِیا۔ اِس کے ساتھ ہی، اُس نے اپنا سامان اٹھایا اور اپنی بیٹی سے دُور جا کر بیٹھ گئی۔ وہ چھوٹی بچّی عام حالات میں تو شاید اِس زبردستی کے سامنے کھڑی رہ پاتی، لیکن یہاں، ایک اَن جانے ہوائی اڈے پر، وہ پُوری طرح خوف زدہ ہو گئی۔ وہ اپنی ماں کی طرف بڑھی، ”مجھے معاف کر دیں، ممی۔ مَیں آپ سے پیار کرتی ہوں، ممی۔“ ”دُور ہو جاؤ یہاں سے۔ مَیں تمہیں نہیں جانتی۔“ ”مجھے معاف کر دیں، ممی،“اِس مرتبہ اُس کی آواز میں اِنتہائی مایوسی جھلک رہی تھی۔ ”چلی جاؤ یہاں سے۔ مجھے تم سے نفرت ہے۔“ اِسی دَوران ایئر لائن نے میری فلائٹ کا اِعلان کر دِیا۔ جب مَیں نے آخری بار اُنہیں دیکھا، تو وہ چھوٹی بچّی اب بھی اِلتجائیں کر رہی تھی اور ماں اسے مسلسل ڈانٹ پلا رہی تھی اور ملامت کر رہی تھی۔ اگر ایک نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے، تو کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ یہ والدینی تربیت کی ایک اِنتہائی کامیاب مثال ہے۔ اِس ماں کا سامنا ایک ضدی اور غیر مہذب بچّے سے تھا۔ وہ چند ہی منٹوں میں اپنی بیٹی کے ظاہری رویے کو بدلنے میں پُوری طرح کامیاب ہو گئی۔ لیکن ایک دُوسرے زاویے سے دیکھا جائے، تو ہر شخص اِس بات سے پُوری طرح اِتفاق کرے گا کہ ماں کا یہ طریقہ اِنتہائی غلط تھا۔ اگرچہ وہ اپنی بیٹی کے رویے کو بدلنے میں کامیاب رہی، لیکن اُس نے اِس کی بہت بھاری قیمت چکائی۔ اِس صورت میں علاج بیماری سے بھی کہیں زیادہ بدتر تھا۔