اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

بحالی، بیداری، بلاہٹ، تربیت، رویا، سورما، قیادت

بھیڑوں کے درمیان رہ رہ کر خُود کو بھیڑ سمجھنے والا ایک شیر

45 24 May, 2026
ایک زمانے میں اِسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جو بھیڑیں بھی چرایا کرتا تھا۔ ایک دِن، وہ اپنی بھیڑوں کو چراگاہ میں لے گیا، اور جب وہ چر رہی تھیں، تو اچانک اُس نے گھاس کے سرسرانے کی ایک عجیب آواز سُنی، جو پہلے تو کسی بلی کے بچے کی آواز جیسی لگی۔ اپنے تجسّس کے ہاتھوں مجبور ہو کر، وہ بوڑھا چرواہا یہ دیکھنے کو وہاں چلا گیا کہ یہ مسلسل آواز کہاں سے آ رہی ہے، اور پھر یہ دیکھ کر اُس کی حیرت کی اِنتہا نہ رہی کہ وہاں شیر کا ایک اکیلا، ہانپتا کانپتا ہُوا بچہ موجود تھا، جو ظاہر ہے کہ اپنے خاندان سے بچھڑ گیا تھا۔ اُس کا پہلا خیال اُس خطرے کے بارے میں تھا جس میں وہ مبتلا ہو سکتا تھا اگر وہ اُس بچے کے زیادہ قریب رہتا اور اُس کی ماں یا دُوسرے شیر واپس آ جاتے۔ اِس لیے وہ بوڑھا آدمی جلدی سے اُس جگہ سے ہٹ گیا اور دُور سے اِنتظار کرنے لگا کہ آیا شیرنی یا شیروں کا جُھنڈ واپس آتا ہے یا نہیں۔ تاہم، جب سورج غروب ہونے لگا اور شیر کے بچے کو لینے کوئی نہ آیا ، تو چرواہے نے اپنی بہترین حکمت کے مطابق، اور اُس شیر کے بچے کی حفاظت اور بقا کے پیشِ نظر ، اِسے اپنے فارم ہاؤس لے جانے اور اِس کی دیکھ بھال کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اگلے آٹھ مہینوں کے دوران، چرواہے نے اِس بچے کو اپنے ہاتھوں سے تازہ دُودھ پلایا اور اُسے فارم ہاؤس کے ایک محفوظ احاطے کے اندر گرم ، پُر سکون اور آرام دہ ماحول کے اندر رکھا۔ جب وہ بچہ مضبوط عضلات سے بھرپور ایک چست، پُرکشش اور چھریرا وجود بن گیا، تو وہ اُسے روزانہ بھیڑوں کے ساتھ چرانے کے لیے باہر لے جانے لگا۔ شیر کا وہ بچہ بھیڑوں کے ساتھ ہی بڑا ہُوا اور گلّے کا حصّہ بن گیا۔ انہوں نے بھی اُسے اپنے ہی ایک فرد کے طور پر قبول کر لیا، اور وہ بھی اُنہی کی طرح عمل کرتا تھا۔ جب پندرہ مہینے گزر گئے، تو وہ چھوٹا بچہ اب ایک جوان شیر بن چُکا تھا، لیکن وہ بالکل بھیڑوں کی طرح عمل کرتا، آواز نکالتا، ردِعمل دیتا اور برتاؤ کرتا تھا۔ حقیقت میں، وہ شیر صحبت کی وجہ سے بھیڑ بن چُکا تھا۔ وہ اپنی ذات کو کھو کر اُنہی میں سے ایک ہو گیا تھا۔ چار سال بعد، ایک گرم دِن، چرواہا ایک بے برگ درخت کے ہلکے سے سائے میں پناہ لیے ایک چٹان پر بیٹھا اپنے گلّے کی نگہبانی کر رہا تھا جو پانی پینے کے لیے ایک دریا کے پُرسکون، بہتے ہوئے پانی میں سے پی رہا تھا۔ وہ شیر جو خود کو بھیڑ سمجھتا تھا، پانی پینے کے لیے اُن کے پیچھے پیچھے پانی میں چلا گیا۔ اچانک، دریا کے بالکل دُوسری طرف، گھنے جنگل کی جھاڑیوں سے ایک بہت بڑا درندہ نمودار ہُوا جسے اِس شیر نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ بھیڑوں پر خوف طاری ہو گیا اور، جیسے بقا کی کسی جبلت کے سحر میں آ کر، انہوں نے پانی سے مخالف سمت میں چھلانگ لگائی اور فارم کی سمت دوڑ لگا دی۔ وہ اُس وقت تک نہیں رُکیں جب تک کہ وہ سب باڑے کی باڑ کے پیچھے محفوظ طریقے سے اکٹھی نہ ہو گئیں۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ شیر، جو اب ایک مکمل جوان شیر تھا، وہ بھی خوف سے لرزتا ہُوا اُنہی کے ساتھ دُبکا بیٹھا تھا۔ جس وقت بھیڑوں کا پورا جھنڈ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا، تو اُس درندے نے ایک ایسی آواز نکالی جس نے پورے جنگل کو ہلا کر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد جب اُس نے اونچی گھاس سے اوپر اپنا سر اٹھایا، تو چرواہا دیکھ سکتا تھا کہ اُس نے اپنے خُون آلود مُنہ میں گلّے کے ایک میمنے کی بے جان لاش دبا رکھی تھی۔ اُس آدمی کو معلوم ہو گیا کہ جنگل کے اِس حصّے میں خطرہ پھر سے لوٹ آیا ہے۔ اگلے سات دِن بغیر کسی مزید واقعے کے گزر گئے، اور پھر، ایک روز جب گلّہ حسبِ معمول چر رہا تھا، تو وہ جوان شیر پانی پینے کے لیے دریا پر گیا۔ جیسے ہی وہ پانی پر جُھکا، اچانک وہ خوفزدہ ہو گیا اور سلامتی کے لیے فارم ہاؤس کی طرف بھاگا۔ بھیڑیں نہیں بھاگیں بلکہ حیران ہوئیں کہ وہ اِس طرح حواس باختہ ہو کر کیوں بھاگا، جبکہ شیر حیران تھا کہ بھیڑیں کیوں نہیں بھاگیں کیونکہ اُس نے اُس درندے کو دوبارہ دیکھا تھامگر وہ تو پانی میں اُسی کا اپنا عکس تھا۔ جب وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے، اچانک وہ درندہ جنگل سے دوبارہ نمودار ہو گیا۔ پورا گلّہ ایک مرتبہ پھر انتہائی سبک رفتاری سے فارم ہاؤس کی طرف بھاگا، لیکن اِس سے پہلے کہ وہ جوان شیر حرکت کر پاتا، وہ درندہ پانی میں اُس کی طرف بڑھا اور ایک ایسی کان پڑتی آواز نکالی جس نے پورے جنگل کو دہلا دیا۔ ایک لمحے کے لیے، جوان شیر کو ایسا محسوس ہُوا جیسے اُس کی زندگی کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ اُس نے محسوس کِیا کہ اُس نے صرف ایک نہیں بلکہ دو درندے دیکھے ہیں؛ ایک پانی میں اور ایک اپنے سامنے۔ جیسے ہی وہ درندہ اُس کے دس فٹ کے دائرے میں آیا اور خوفناک طاقت کے ساتھ اُس کے سامنے غُرایا، تو اُس کا سر اِس اُلجھن سے چکرا گیا، جیسے وہ درندہ اُس سے کہہ رہا ہو، ’’کوشش کرو، اور آؤ میرے پیچھے چلو۔‘‘ جب خوف نے جوان شیر کو جکڑ لیا، تو اُس نے اُس درندے کو راضی کرنے اور ویسی ہی آواز نکالنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کِیا۔ تاہم، اُس کے کھلے ہوئے جبڑوں سے جو واحد آواز نکلی وہ ایک بھیڑ کی آواز تھی۔ دوسرے درندے نے اَور زیادہ بلند آواز کے ساتھ ردِعمل دیا جو گویا یہ کہہ رہی تھی، ’’دوبارہ کوشش کرو۔‘‘ سات یا آٹھ کوششوں کے بعد، اچانک جوان شیر نے خود کو ویسی ہی آواز نکالتے ہوئے سُنا جیسی اُس درندے کی تھی۔ اُس نے اپنے جسم میں ایک ایسی ہلچل اور ایسے جذبات محسوس کیے جنہیں وہ پہلے کبھی نہیں جانتا تھا۔ یہ ایسا تھا جیسے وہ ذہن، جسم اور رُوح کی مکمل تبدیلی کے تجربے سے گزر رہا ہو۔ اچانک، اُس دریا کے پاس دو درندے ایک دُوسرے پر اور ایک دُوسرے کے سامنے غُرا رہے تھے۔ پھر چرواہے نے کُچھ ایسا دیکھا جسے وہ کبھی بھُلا نہیں پائے گا۔ جیسے ہی اُن خوفناک آوازوں نے میلوں تک جنگل کو ہلا کر رکھ دیا، وہ بڑا درندہ رُکا، اُس نے جوان شیر کی طرف اپنی پیٹھ کی اور جنگل کی طرف چل دیا۔ پھر وہ رُکا اور اُس نے ایک بار پھر جوان شیر کی طرف دیکھا اور غُرایا، جیسے کہہ رہا ہو، ’’کیا تم آ رہے ہو؟‘‘ وہ جوان شیر اِس اِشارے کا مطلب سمجھ گیا اور اچانک اُسے اِحساس ہُوا کہ اُس کے فیصلے کا دِن آ پہنچا ہے؛ وہ دِن جب اُسے یہ اِنتخاب کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایک بھیڑ کے طور پر زندگی گزارتا رہے یا وہ درندہ بن جائے جسے اُس نے ابھی ابھی دریافت کِیا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اپنی حقیقی شخصیت بننے کے لیے، اُسے فارم کی محفوظ، پُرامن، صحت افزا اور سادہ زندگی کو چھوڑنا کر جنگل کی خوفناک، وحشی، بے لگام، بے قیاس اور خطرناک زندگی میں داخل ہونا ہوگا۔ یہ اپنی حقیقت کو وسیع پیمانے پر جاننے، اپنی حقیقت کو عملی طور پر جینے اور دُوسری زندگی کے جھوٹے عکس کو پیچھے چھوڑ دینے کا دِن تھا۔ یہ ایک ’’بھیڑ‘‘ کو جنگل کا بادشاہ بننے کی دعوت تھی۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ ایک حقیقی شیر کے غیر حقیقی وجود کے لیے ایک حقیقی شیر کی رُوح حاصل کرنے کی دعوت تھی۔ گومگو کی حالت میں، فارم اور جنگل کی طرف چند بار دیکھنے کے بعد، جوان شیر نے فارم اور اُن بھیڑوں کی طرف اپنی پیٹھ کر لی جن کے ساتھ وہ برسوں تک رہا ، اور دھیرے دھیرے اُس درندے کے پیچھے پیچھے جنگل میں چلا گیا تاکہ وہی بن جائے جو وہ ہمیشہ سے تھایعنی ایک حقیقی شیر اور جنگل کا بادشاہ۔