اٹلی کے دور افتادہ سمندر پر ایک بندرگاہ واقع ہے جہاں تک پہنچنے کے لئے ایک نہایت تنگ کھاڑی سے جانا پڑتا ہے کیونکہ اس کھاڑی کے دونوں اطراف سنگلاخ پتھروں کی چٹانیں ہیں۔ مضبوط ترین جہاز یا کشتیاں بھی کئی مرتبہ ان چٹانوں سے ٹکرا کر غرقِ آب ہو چکی ہیں۔ رات کی گہری تاریکی کے وقت تو ماہر سے ماہر کپتان بھی اپنے جہاز کو اس کھاڑی میں گزارنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ کچھ سال قبل ا س خطرے سے نپٹنے کے لئے اٹلی کی نیوی نے وہاں تین بڑی فلڈ لائیٹس لگائیں تاکہ کشتیاں اور جہاز رات کی تاریکی میں بھی وہاں سے بآسانی گزر سکیں۔ تاہم جہازوں کے کپتان ایسا نہیں کرتے کہ ایک روشنی تک پہنچنے کے بعد دوسری روشنی تک پہنچیں اور اس کے بعد تیسری روشنی تک پہنچتے ہوئے اس کھاڑی میں نکل جائیں۔ بلکہ ان تینوں لائٹوں کو اس طرح سے ایک سیدھ میں لگایا گیا کہ اگر کسی کپتان کو وہ تینوں لائٹیں ایک ہی سیدھ میں دکھائی دیں تو ا س کا مطلب یہ ہے کہ وہ کپتان اپنے جہاز کو سیدھا چلاتا ہوا وہاں سے آسانی سے نکل جائے گا لیکن اگر ان لائٹوں کی سیدھ تھوڑی سی بھی خراب ہوئی یا لائیٹس آگے پیچھے دکھائی دیں تو اس کا مطلب ہے کہ جہاز اپنی ٹریک سے بھٹک گیا ہے اور چٹانوں سے ٹکرانے کا خطرہ ہے۔ ان تینوں لائیٹس کا انتہائی درست طور پر سیدھ میں ہونا ضروری تھا۔
دعا میں خدا کی رہنمائی حاصل کرنے میں بھی یہی اصول کارفرما ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کے جہازوں کو مشکلات میں سے مہارت کے ساتھ گزارنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم خد اکی مہیا کردہ تینوں لائیٹس پر اپنی نظریں مرکوز رکھیں اور اس کی مرضی کی سیدھ اور روشنی میں بڑھتے جائیں۔ لیکن ضروری بات یہ ہے کہ یہ تینوں عوامل باہم ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کریں۔ جیسا کہ اطالوی بندرگاہ کی تینوں روشنیاں ایک سیدھ میں ہونا ضروری تھا اسی طرح یہ تینوں ’’روحانی روشنیاں‘‘ بھی ایک دوسرے کے ساتھ سیدھ میں ہونی چاہئیں یعنی ایک دوسرے کے ساتھ باہم منسلک ہونی چاہئیں۔ تب ہی ہمیں کسی مخصوص سمت میں بڑھنے کی واضح رہنمائی حاصل ہو سکتی ہے۔