اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

باپ، تربیت، رہنمائی، معافی، نظم و ضبط

ٹین ایج بچوں کی تربیت کا ایک درست رویہ

3 14 Jun, 2026
معافی مانگنے، جوابدہی کے لئے تیار رہنے اور دُعا کی درخواست کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ نہ دِکھائیں۔ یہاں تک کہ آپ کی خاندانی ناکامی کو بھی خُداوند آپ کے ٹین ایج بچے کے دِل کو نرم کرنے کے لئے اِستعمال کر سکتا ہے! اِنجیلِ مقدس میں ہمارے لئے کتنی عظیم اُمید موجود ہے! خود غرضی، بیزاری، سخت الفاظ، بے صبری اور غصے کے اِن لمحوں کو یوں ہی مٹ جانے نہ دیں۔ اپنے ٹین ایج بچے کے پاس جائیں اور اپنی خامیوں اور خطاؤں کا اِقرار کریں۔ اُس سے کہیں کہ وہ میرے لئے دُعا کرے، اور اسے اِس بات کی کھلی دعوت دیں کہ جب کبھی وہ آپ کی کہی ہوئی باتوں یا کئے گئے کاموں سے مجروح ہوا ہو، وہ بلا جھجھک آپ کے پاس آ سکتا ہے۔ اپنی ذات کو عاجزی، مسیح پر کامل اِتکال اور الٰہی اُمید کی ایک زِندہ تصویر بنائیں۔ ایک دن کے اِختتام پر مَیں نے اسکول سے اپنے بیٹے کی پروگریس رپورٹ دیکھی۔ مَیں نے اُس کے گریڈز پر نظر ڈالی اور مجھے فوراً غصہ آ گیا۔ اگرچہ گریڈز اتنے برے بھی نہیں تھے، تَوبھی مَیں اچھّی طرح جانتا تھا کہ وہ اِس سے کہیں بہتر کارکردگی دِکھا سکتا تھا۔ اُس پر برستے ہوئے مَیں نے اسے جتایا کہ اسے اسکول پڑھانے کے لئے ہم کتنی سخت محنت کرتے ہیں (ملامت کرنا)۔ مَیں نے اسے کہا کہ کبھی کبھی مجھے یہ شک ہوتا ہے کہ کیا تم زندگی میں کبھی کوئی ذمہ داری سیکھو گے بھی یا نہیں (مجرم ٹھہرانا)۔ اور مَیں نے اسے یہ بھی کہہ ڈالا کہ جب مَیں اُس کی عمر کا تھا، تو مَیں اسکول کی پڑھائی کو لے کر اِنتہائی سنجیدہ تھا (خود پسندی)۔ وہ اپنا سر جھکائے میرے سامنے بیٹھا رہا۔ اُس نے کچھ نہ کہا۔ اور جیسے ہی مَیں نے اپنی بات ختم کی، وہ نیچے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اِسی لمحے، میرے دِل نے مجھے میرے اِس برے رویے پر ملامت کی۔ مَیں نے دُعا کی اور خُداوند سے معافی مانگی۔ رات گئے، مَیں نے اپنے بیٹے سے ایک بار پھر اپنے پاس بیٹھنے کی درخواست کی۔ مَیں نے اسے بتایا کہ مجھے اِس بات کا اِحساس ہو چکا ہے کہ اِس گھر میں صرف تم ہی ایک گنہگار نہیں ہو! یہ سن کر وہ مسکرا دیا۔ مَیں نے اُس سے معافی مانگی۔ مَیں نے خُدا کی الٰہی مدد اور اپنے بیٹے کی دُعا کی ضرورت کا اِقرار کِیا۔ مَیں نے اسے بتایا کہ مَیں اُس کا باپ تو ہوں ہی، لیکن مَیں اُس کا ایک مخلص دوست بھی بننا چاہتا ہوں۔ مَیں نے اسے کہا کہ مَیں اصلاح کے لمحوں میں بھی اسے ایک پُرامید حالت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اُس نے مجھ سے بات کرنے پر میرا شکریہ ادا کِیا اور وہ سونے کے لئے چلا گیا۔ اگلی دوپہر، جب وہ اسکول سے گھر لوٹا، تو اُس نے میرا بازو تھاما اور کہا کہ ”مَیں بھی آپ کا دوست بننا چاہتا ہوں“۔ یہ کتنے قیمتی اور انمول الفاظ تھے۔ یہ الفاظ اُس کے دِل کے نرم ہونے کی گواہی دے رہے تھے، اور یہ اِس بات کا زِندہ ثبوت تھے کہ خُدا میری ناکامی کے وسیلہ سے بھی کتنی مخلصانہ بحالی کا کام کر رہا تھا۔ ہمیشہ یاد رکھیں، یہ آپ کی کمزوری نہیں ہے جو آپ کے وسیلہ سے خُدا کے کام کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے گی، بلکہ آپ کا طاقتور ہونے کا جھوٹا گمان رکاوٹ بنتا ہے۔ اُس کی قدرت ہماری کمزوری میں ہی کامل ہوتی ہے! اپنی کمزوری کا اِعتراف کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہ کر اُس کی ابدی قدرت کی طرف اشارہ کریں۔