اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

معافی

چھچھوندر اور بخشش: تقدیس کی تلاش میں ایک سبق

27 26 Aug, 2025
اپنی تقدیس کی جستجو کے دوران مَیں نے محسوس کیا کہ مجھے اپنی زندگی میں موجود ہر اُس چیز سے دستبردار ہونے کی ضرورت ہے جو خدا کو پسند نہیں۔ اِس کے لئے مَیں نے ہر انتہائی قدم اُٹھانے کا فیصلہ بھی کر لیا مگر پھر بھی میری تسلی نہیں ہو رہی تھی کیونکہ میری یہی عادت ہے کہ مَیں جب تک کسی کام کو پورا نہ کر لوں مَیں اُس وقت چین سے بیٹھ نہیں سکتا۔ پھر ایک دِن میں سب کام چھوڑ کر اپنے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے لگا۔ مَیں نے اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک کے سارے کام یاد کئے اور اُنہیں خوب کھنگال کر دیکھا کہ کہیں کوئی ایسی بات رہ نہ جائے جس کا مَیں نے خدا کے حضور اقرار کر کے اُس سے معافی نہ مانگی ہو۔ مَیں نے اپنے ذہن پر پورا زور ڈالا اورکوشش کی کہ ہر ایک بات کو خدا کے حضور میں رکھ کر خود کو تقدیس کے عمل کے لئے تیار کروں۔ تب ہی مجھے ایک چھچھوندر کا واقعہ یاد آیا۔ وہ چھچھوندر جو مَیں نے چوری کی تھی۔ ماضی کو یاد کرتے ہوئے مجھے وہ سارے واقعات ایک ایک کر کے یاد آتے جا رہے تھے۔ یہ ایک یخ بستہ صبح کا واقعہ ہے جب مَیں صبح سویرے اپنے گھر سے نکلا اور اپنے گھر کے سامنے واقعی سبزہ زار پر لوٹنے لگا۔ مَیں نے وہاں جانوروں کو پکڑنے کے لئے چند پھندے پہلے سے لگا رکھے تھے۔ اور یہ میرا معمول تھا کہ صبح اُٹھے ہی مَیں سب سے پہلے اُس سبزہ زار کی جھاڑیوں میں لگے تمام پھندوں کو ایک ایک کر کے ضرور دیکھتا تھا۔ مجھے پوری اُمید تھی کہ آج کی صبح اُن میں سے کسی نہ کسی میں کوئی ایک نہ ایک چھچھوندر ضرور آئی ہوگی۔ مَیں نے وہ پھندے چھچھوندروں کی بِلوں کے بالکل سامنے لگائے تھے۔ پھر جب مَیں نے سارے پھندے اچھی طرح دیکھ بھال لئے تو وہ سب کے سب خالی تھے۔ اُن میں ایک بھی چھچھوندر نہیں آئی تھی۔ مگر جب مَیں نے اپنے پڑوسی دوست جمیؔ کے پھندوں کو دیکھا تو اُن میں سے ایک پھندے میں مجھے دُور سے ہی چھچھوندر کے بال نظر آنا شروع ہو گئے۔جب مَیں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو جمیؔ کے ایک پھندے میں ایک چھچھوندر پھنسی ہوئی تھی۔ وہ زندہ تھی۔ مَیں نے اِدھر اُدھر دیکھا اور جب کسی کو موجود نہ پایا تو ایک چھڑی کی مدد سے اپنے سارے پھندے جمیؔ کے اُس پھندے کے اردگرد پھیلا دئیے جس میں وہ چھچھوندر پکڑی گئی تھی اور اُس کا دروازہ چپکے سے کھول دیا تاکہ وہ اُس پھندے میں سے نکل کر میرے پھیلائے ہوئے پھندوں میں سے کسی ایک میں گھس جائے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ اُس صبح مجھے ایک چھچھوندر مل گئی بھلے وہ مَیں نے اپنی کوشش سے کس طرح بھی حاصل کی تھی۔ ہمارے گھر کے قریب ہی جانوروں کا ایک بازار تھا جس میں ہم اپنے پکڑے ہوئے جانوروں کو جا کر بیچ آتے تھے۔ چنانچہ مَیں بھی نے اُس پھندے کو چھچھوندر سمیت اُٹھایا اور جانوروں کی دُکان پر جا کر فوراً بیچ آیا۔ اِس کے بعد میری جمیؔ کے ساتھ ملاقات ہوئے کئی سال بیت گئے اور مجھے کچھ خبر نہیں تھی کہ وہ اِن پورے برسوں میں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ مگر وہ چوری کی چھچھوندر میری عمر کے ساتھ ساتھ میرے دماغ میں بڑھی ہوتی گئی اور اب وہ ایک پوری جوان گائے کی جسامت اختیار کر چکی تھی۔ اُس چھچھوندر کی یاد میرے لئے عذاب بن گئی تھی۔ مَیں نے پورا ماجرا جمیؔ کو سچ سچ بتانے کے لئے اُس کا گھر ڈھونڈنا شروع کیا اور جب مل گیا تو مَیں نے اُس کے پتے پر ایک عدد چٹھی لکھ کر بھیج دی۔ اُس چٹھی میں مَیں نے پوری تفصیل کے ساتھ چھچھوندر کی چوری کا واقعہ لکھ ڈالا اور پھر موٹے موٹے حروف میں اُس سے معافی مانگی اور ساتھ میں دو ڈالرز بھی ڈال دئیے۔ ا ِس سے میرے دِل کو کافی تشفی ہوئی اور مَیں نے وہ خط لیٹر بکس میں ڈال دیا۔ چند دِنوں کے بعد مجھے اپنے اُسی دوست کا فون آیا۔ اُسے میرا خط مل گیا تھا اور اب جب مَیں نے فون پر اُس کے جواب کو سُنا تو مَیں بے اختیار مسکرانے لگا۔ جمیؔ اب ایک نجات یافتہ مسیحی بن چکا تھا اور جب مَیں نے بھی اُسے اپنی نجات یافتہ ہونے کی خبر سنائی تو وہ بہت خوش ہوا اور مجھے بتایا کہ مَیں وہ دو ڈالر واپس بھیج رہا ہوں۔
متعلقہ مشمولات