ہم اکثر ایک ایسے شہزادے کی کہانی سنتے ہیں جو کسی عظیم شاہی خاندان میں پیدا ہُوا تھا۔ جب شہزادہ پانچ سال کا تھا، تو اُس کا باپ، جو کہ بادشاہ تھا، لڑکے کو اپنے ساتھ ایک دُور دراز ملک کے سفر پر لے گیا۔ اِس سفر کے دوران، اُن کا جہاز ایک چٹان سے ٹکرا گیا، اور عملے کے تمام اراکین اور مسافر اِن بپھری ہوئی لہروں کے رحم و کرم پر آ گئے۔
اِس افراتفری اور بچاؤ کی جدوجہد کے دوران، ایک قریبی جزیرے کے مقامی باشندے نے اُس چھوٹے شہزادے کو بچا لیا۔ بادشاہ اِس بچاؤ کی مہم سے بالکل بے خبر تھا، اور وہ چھوٹا شہزادہ اب اپنے شاہی خاندان سے جدا ہو چکا تھا۔ وہ اُس گاؤں کا ایک رکن بن گیا اور اپنی شاہی وراثت سے بالکل بے خبر پلا بڑھا۔ اُس نے مقامی لوگوں کی طرح سوچنا اور جینا سیکھ لیا اور اِسی طرزِ زندگی کو اپنا لیا۔ اپنی غربت اور سادہ زندگی میں، وہ اِس بات سے بالکل ناواقف تھا کہ وہ ایک اِنتہائی امیر اور بلند مرتبہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اپنے باپ کی شاہی سلطنت کا وارث ہے۔ دراصل، وہ اُس معاشرے کی ثقافت، رسم و رواج اور معیار کا غُلام بن کر رہ گیا جس میں وہ موجود تھا۔ وہ ایک شاہی شہزادہ تھا جو اِنتہائی مفلوک الحال حالات میں زندگی گزار رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، کیوں پیدا ہُوا ہے، کس چیز کی قابلیت رکھتا ہے، یا بادشاہ بننے پر اُس کا قانونی اور جائز حق کیا ہے۔ وہ اپنی زندگی اپنی خلقی مراعات سے کہیں نیچے گر کر گزار رہا تھا، کیونکہ وہ اپنی زندگی کے اِن اہم ترین سوالات یعنی اپنی پہچان، وراثت، مقصد، مخفی صلاحیت اور تقدیر کے جوابات سے محروم تھا۔
اِن بنیادی سوالات کے جوابات جاننا ہی کسی بھی اِنسان کو معنی اور مقصد عطا کرتا ہے۔ اِن جوابات کے بغیر، زندگی ایک تجربے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال بنیادی طور پر اِنسان کے اپنے سرچشمے سے کٹ جانے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور نوعِ اِنسان کے اصل تصورِ ذات یا شبیہ، عزتِ نفس، خود توقیری اور اہمیت کے اِحساس کے زوال کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔