تصور کیجئے کہ آپ دو دن سے ایک سنسان سڑک پر بغیر کچھ کھائے پئے چل رہے ہیں اور سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔ اچانک، آپ کو دُور ایک کنواں دکھائی دیتا ہے۔ تھکن کے باوجود، آپ اِس اُمید کے ساتھ اُس کی طرف دوڑتے ہیں کہ اب آپ کی پیاس بجھ جائے گی۔ تاہم جب آپ کنویں کے پاس پہنچتے ہیں، تو آپ کو اُس کے منہ پر لٹکتی ہوئی ایک رسی تو نظر آتی ہے لیکن وہاں کوئی بالٹی نہیں ہوتی۔ کنویں کی گہرائی میں وہ سب کچھ موجود ہے جو آپ کی پیاس بجھانے اور آپ کی زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، لیکن آپ کو اُس تک کوئی رسائی حاصل نہیں ہے۔یہ اُس اِنسانیت کی ایک جھلک ہے جو زندگی بخشنے والے اپنے سرچشمے سے کٹ چکی ہے۔