دُعا
میرے رب مجھ کو تخلیق کر
میں جہاں ہوں، مجھے
اپنے ہاتھوں سے چھُو
روشنی، رنگ، خوشبُو، ہوا
سب کو غائب سے
ظاہر میں لا
ابر پر پاؤں رکھ
اور کہہ
خاک سبزہ اُگائے
ہرے آئینوں میں
گلابوں کی مشعل جلے
ہوا میں مہک آئے
دریا میں پانی بہے
روشنی تیرگی سے جُدا ہو
اور یہ سب
تری آنکھ میں خوُشنما ہو