بدن میں سمندر سمیٹتے ہوئے
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 80
پسند: 0
بدن میں سمندر سمیٹتے ہوئے
وہ مر جائے گا یونہی لیٹے ہوئے
۔۔۔
سفر پر روانہ ہوئیں مشعلیں
ہواؤں کی چادر لپیٹے ہوئے
۔۔۔
گزر جاؤں گا اپنے گرداب سے
تجھے ریزہ ریزہ سمیٹے ہوئے
۔۔۔
فلک پہ کہیں باپ بیٹھا رہا
زمیں پر پریشان بیٹے ہوئے
۔۔۔
ہوا کونپلیں بھی اُڑا لے گئی
وہ بیٹھا رہا پر سمیٹے ہوئے
واپس جائیں