بُجھی ہوئی ہیں جو شمعیں وہ جھلملائیں کیا
نذیر قیصر
غزلیات
مطالعات: 76
پسند: 0
بُجھی ہوئی ہیں جو شمعیں وہ جھلملائیں کیا
جو یاد بھی نہیں آتا اُسے بھلائیں کیا
۔۔۔
اُجڑ چکے ہیں در و بام بے چراغ ہیں گھر
تلاش کرتی ہیں گلیوں میں اب ہوائیں کیا
۔۔۔
بہت طویل ہے منزل بہت قریب ہے گھر
یہ سوچتے ہوئے رستے سے لوٹ جائیں کیا
۔۔۔
میں پیڑ ہوں میری نبضیں زمیں کے ہاتھ میں ہیں
جو شاخ مجھ میں نہیں اس میں پُھول آئیں کیا
۔۔۔
جو مہتاب کی کرنوں کا بار اُٹھا نہ سکے
ستارۂ سحری سے نظر ملائیں کیا
۔۔۔
میں آج رات کے پردے میں کل کا سورج ہوں
یہ ٹوٹتے ہوئے تارے مُجھے ڈرائیں کیا
واپس جائیں