دار پر لٹکا، لٹک کر کون قرباں ہو گیا
نسلِ انساں کے گنہ کا کون درماں ہو گیا
۔۔۔
کون تڑپایا گیا تھا ظلمتوں کے دوش پر
کس کا خوں تفسیرِ عنوانِ شہید ہو گیا
۔۔۔
کس کا خوں رِس رِس کے ٹپکا تھا خس و خاشاک پر
کھل کے کس کا زخمِ دل صبحِ درخشاں ہو گیا
۔۔۔
کس نے اک نیزے کا مہلک وار پسلی میں سہا
کس کا پاکیزہ بدن زخموں سے عُریاں ہو گیا
۔۔۔
خونچکاں سر سے لہو گر گر کے چہرے پر بہا
جسم کس کا خوں کے چھینٹوں سے گلستاں ہو گیا
۔۔۔
اے تھکے ماندو، مریضو، بے کسو، معلوم ہے؟
کس کا پرچم چادرِ شامِ غریباں ہو گیا
۔۔۔
کس کی ضربت سے ہوا سینہ لحد کا پاش پاس؟
کس کے نورِ جسم سے عالم فروزاں ہو گیا
۔۔۔
دار کس کی عظمتِ کردار کا باعث بنی؟
خون کس کا دافعِ ناسورِ عصیاں ہو گیا
۔۔۔
کون مر کر جی اُٹھا اور عرش پر زندہ گیا
کس کا جینا باعثِ ایمانِ قرآں ہو گیا
۔۔۔
کس نے توڑا ساکنانِ قصرِ شاہی کا غرور
کون ویراں بستیوں میں ماہِ کنعاں ہو گیا
۔۔۔
منقسم وقتِ و زماں تا حشر کس نے کر دئیے
کس کا "سنِ عیسوی" تقویمِ انساں ہو گیا
۔۔۔
جس کی زیبائی شررؔ ہے ذرہ ذرہ سے عیاں
تیرا خامہ اس کی مدحت میں گل افشاں ہو گیا