میں بابل کی اسیری میں رہوں گا دوستو کب تک
گریفن جونز شرر
غزلیات
مطالعات: 120
پسند: 0
میں بابل کی اسیری میں رہوں گا دوستو کب تک
صلیبِ ظلم پر چڑھ کر جیوں گا دوستو کب تک
۔۔۔
کہاں تک آندھیوں کی قید میں اُٹھ اُٹھ کے لرزوں گا
صلیبوں کی قطاروں میں چلوں گا دوستو کب تک
۔۔۔
میری بربادیوں کی ہو رہی ہیں سازشیں ہر سو
جو بیگانے ہیں میں ان سے بچوں گا دوستو کب تک
۔۔۔
کبھی فتنوں میں الجھا ہوں کبھی نیزوں پہ لٹکا ہوں
میں مٹ مٹ کے بگولوں سے اُٹھوں گا دوستو کب تک
۔۔۔
ہمارے رہنما خود ہی خودی کو قتل کرتے ہیں
میں تنہا راہِ ظلمت میں بڑھوں گا دوستو کب تک
۔۔۔
مجھے مرنے پہ میری قوم خود مجبور کرتی ہے
ستم اپنوں کے غیروں کے سہوں گا دوستو کب تک
۔۔۔
فنا ہو جائے گا جل کر شرر آنسو بہاؤ گے
دل صد چاک کانٹوں سے سیوں گا دوستو کب تک
واپس جائیں