محفل مسیحا کی ، شام بھی مسیحا کی
ارنسٹ مل
گیت
مطالعات: 127
پسند: 0
محفل مسیحا کی ، شام بھی مسیحا کی
یہ محفل سجانے آئے ہیں ہم
مسیحا سے ملیں گے ، مسیحا سے کہیں گے
تیرے گیت گانے آئے ہیں ہم
(۱)
مسح کی فراوانی کی ، عقابوں سی جوانی کی
شفا کی افزانی کی ، ہمیں آرزو
مسح سے بھر جائیں گے، ہوا میں اڑ جائیں گے
تیرے روح سے بھرنے آئے ہیں ہم
(۲)
مسیحا ہی سہارا ہے ، مسیحا جاں سے پیارا ہے
گناہوں کا کفارہ ہے ، زندہ خدا
میٹھی میٹھی زندگی روح کی تازگی
نئی جوت لینے آئے ہیں ہم
(۳)
نظر ہے مسیحا پر ، فخر ہے مسیحا پر
ایمان مسیحا پر ، مسیحا تو آ
ہے دلہن منتظر، نظر افلاک پر
نقارے کو سننے آئے ہیں ہم
واپس جائیں