اس سیکشن پر کام جاری ہے جس میں 5000 سے زائد تمثیلات شامل کی جائیں گی۔
| تمثیلوں کا خزانہ
نیویگیشن مینو
ہوم پیج
زمرہ جات

اولاد، باپ، تربیت، خاندان، نظم و ضبط، یوتھ

قلبی شعور کا فقدان

4 12 Jun, 2026
میری بیٹی ایک دن اسکول سے گھر آئی تو اُس کے ہاتھ میں اپنی ایک کلاس کی گریڈ رپورٹ تھی جسے وہ لہراتی ہوئی آ رہی تھی۔ کہنے لگی، ”پاپا، مجھے آپ سے ہسپانوی زبان (Spanish) کے گریڈ کے بارے میں بات کرنی ہے“۔ مَیں پہلے ہی سمجھ گیا کہ ہم کسی مصیبت میں ہیں! اُس نے بڑے فخر سے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”میری پوری کلاس میں سب سے بہترین ’ڈی‘ گریڈ میرا آیا ہے!“ اِس سے پہلے کہ وہ اپنے گریڈ کے بارے میں بات مکمل کرتی، مَیں نے دِل میں سوچا کہ مجھے اِس ’ڈی‘ گریڈ کو فریج کے اوپر گوند سے چپکا دینا چاہیے آخر مَیں ایک ایسی بیٹی کا فخر سے بھرا ہوا باپ تھا جس نے اِتنے تعلیمی دباؤ اور اساتذہ کی اِنتہائی نااہلی کے باوجود یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا! اُس نے مجھے بتایا کہ کلاس کے تمام طلبہ، یہاں تک کہ ذہین بچوں کے بھی بہت بُرے گریڈ آئے ہیں۔ پوری کلاس میں صرف دو ایک بچوں کے ’سی‘ گریڈ آئے ہیں، اور اُس کا گریڈ ایک درجہ پیچھے یعنی ’ڈی‘ ہے۔ پھر اُس نے مجھے اِس کی اصل وجہ بتانا شروع کی۔ کہنے لگی، ”پاپا، اصل میں وہ نئے ٹیچر ہیں۔ وہ ہمارے اوپر تجربے کر کر کے پڑھانا سیکھ رہے ہیں۔ پاپا، ایسا لگتا ہے جیسے ہم اُن کے لئے ننھے منے بچے ہیں“۔ مَیں جتنا زیادہ سنتا گیا، میرا فخر اتنا ہی بڑھتا گیا! واہ، کتنی محنتی اور جفاکش بیٹی ہے، جس نے ایک نوآموز ٹیچر کی نااہلی کے باوجود یہ کامیابی حاصل کی! لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُس دوپہر جب مَیں اِس کی باتیں سن رہا تھا، تو میرا دِل اِیک گہرے دکھ سے بھر گیا کیونکہ مجھے اِس بات کا جھٹکا لگا کہ وہ کوئی اداکاری نہیں کر رہی تھی۔ مَیں نے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا اور مجھے احساس ہُوا کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہے، خود اِس پر پورا یقین رکھتی ہے۔ وہ واقعی دل سے یہ سمجھ رہی تھی کہ اِس میں اِس کی اپنی کوئی غلطی نہیں ہے۔ وہ سچ مچ اِس بات پر ایمان لائے بیٹھی تھی کہ سارا اِلزام صرف اور صرف ٹیچر کا ہے۔ گریڈ شیٹ پانے اور گھر پہنچنے کے درمیانی وقت میں، اُس نے اپنے ذہن کے اندر حالات کی اِیک ایسی تشریح گھڑ لی تھی جس نے اِس کی اپنی ذمہ داری کو اِس پورے منظرنامے سے یکسر غائب کر دیا تھا۔ وہ قلبی شعور سے بالکل لاچار اور نابلد ہو چکی تھی اور دِل کے اِن حقیقی مسائل اور کوتاہیوں کو دیکھ ہی نہیں پا رہی تھی جنہیں اُس رپورٹ نے بے نقاب کِیا تھا۔ اب جب مَیں اِس کی اِصلاح کرنے بیٹھتا، تو مجھے کس چیز کا سامنا کرنا پڑتا؟ وہ اپنا دفاع کرنے پر تل جاتی۔ وہ یہ محسوس کرتی کہ اس پر بالکل جھوٹا اور غلط اِلزام لگایا جا رہا ہے۔ وہ غالباً مجھ پر یہ دوش دھرتی کہ مَیں اِس کی بات سمجھ ہی نہیں رہا اور مَیں اِس کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں رکھتا۔ وہ یہ سوچ کر حیران ہوتی کہ مَیں نے اِس کا ساتھ دینے کے بجائے ٹیچر کی طرفداری کیوں کی؟ یہ وہ مخصوص حالات ہیں جن کا سامنا ہمیں اپنے ٹین ایج بچوں کے دِلوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کے دوران روزمرہ کی زندگی میں باقاعدگی سے کرنا پڑے گا۔