ہمیں ایک بزرگ خاتون کا واقعہ یاد ہے جو تن تنہا رہتی تھی۔ اس کی تنہائی کا وقت گزارنے کے لئے کوئی دوست اس کے پاس نہیں آتا تھا اسلئے اس نے ’’خدا کو اپنا دوست بنا لیا‘‘۔ ایک دن ایک اجنبی شخص وہاں سے گزرتے ہوئے اس کے گھر میں آیا اور کچھ وقت اس کے ساتھ باتیں کیں اور اس سے پوچھا کہ آپ اس تنہائی میں اپنا وقت کیسے گزارتی ہیں۔ تو اس خاتون نے جواب میں کہا:
’’ میں صبح اٹھ کر بائبل پڑھتی ہوں اور تب تک پڑھتی رہتی ہوں جب تک میں اس سے سیر نہیں ہوجاتی۔ پھر میں دعا کرتی ہوں اور تب تک دعا کرتی رہتی ہوں جب تک میں دعا سے سیر نہیں ہو جاتی۔ پھر میں گیتوں کی کتاب اٹھالیتی ہوں اور تب تک گیت گاتی رہتی ہوں جب تک میں سیر نہیں ہو جاتی۔‘‘
اس بزرگ خاتون نے مسکراتے ہوئے اس شخص سے کہا ’’ پھر میں باقی کا سارا دن آرام سے بیٹھ کر گزار دیتی ہوں اور خدا کی محبت کے لمس کو محسوس کرتی رہتی ہوں۔‘‘ اس خاتون نے دعا کی خدمت کا عظیم بھید جان لیا تھا اسلئے وہ دعا کے وقت کے بعد خدا کی محبت میں ترو تازہ رہتی تھی۔