اے بنتِ حوا
کنیز منظور
غزلیات
مطالعات: 170
پسند: 1
کھول دے پنکھ تجھے اڑنا ہے
نہ ہونا پتھر نہ پیچھے مڑنا ہے
اب لگا دی تو۔ ۔۔ لگا دی بازی
وہی ہوگا جو اب تجھے کرنا ہے
بیتی حیات بہت وہموں میں
ہےجوباقی بسر خود اسےکرنا ہے
اب یہ حوصلہ پائے نہ ٹوٹنے
کسی مشکل سے نہیں ڈرنا ہے
کہے دنیا جو کہنا ہے اسے
بار بار نہیں تجھے بکھرنا ہے
توڑنے والوں کو ذرا کہہ دو
ٹوٹے ہوں پنکھ پھر بھی اڑنا ہے
جوڑ لیں پنکھ تو پھر سوچتےہیں
کہاں کو جانا کہاں سے مڑنا ہے
واپس جائیں