ایک مرتبہ مَیں نے ایک ایسے جج کی کہانی سُنی جس کی اپنی بیٹی کو تیزرفتاری کے الزام میں اُس کے سامنے لایا گیا تھا۔ سب لوگ دنگ رہ گئے کیونکہ اُس جج نے اپنی بیٹی پر سب سے زیادہ سخت جرمانہ عائد کیا۔ پھر وہ اپنی انصاف کی کُرسی سے نیچے اُترا، اپنا بٹوہ نکالا اور اُس کا جرمانہ ادا کر دیا۔ اِس طرح عدل کا تقاضا بھی پورا ہو گیا۔