مسیح کے جلالی، پُرفضل اور قادر نام میں آپ کی سلامتی ہو۔
یہ میرے لئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میرے فرزندِ ارجمند پادری اسٹیفن رضاؔ نے گزشتہ پانچ برس کی انتھک محنت، لگن اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کے بعد، ’’فاختہ ورشپ لائبریری‘‘ کے نام سے مسیحی پرستش پر مبنی مواد کو ایک بڑے پلیٹ فارم پر مجتمع کر کے آپ کی خدمت میں پیش کرنے جیسا یہ اہم فریضہ بلکہ کارہائے نمایاں سر انجام دے کر میرا سر فخر سے مزید بلند کر دیا ہے۔
آج تک ہم سب گیتوں کی کتب سے استفادہ کرتے آئے ہیں اور اِس ضمن میں ہم گیتوں کی کتب تیار کرنے والے تمام قائدین اور اداروں کی صدیوں اور دہائیوں پر محیط کاوش کو ہمیشہ سراہتے اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی محنتِ شاقہ کے ثمرات سے ہم آج بھی فیض یاب ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔
دیکھیں جی، ہر دَور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگوں کو پرستش کے گیت ویسے ہی ازبر ہوتے تھے اور پھر جب رفتہ رفتہ نئے مسیحی شعراء کی شاعری پر مبنی نغمات منظر عام پر آنے اور کلیسیائی عبادات میں مقبول ہونا شروع ہوئے تو گیتوں کی کتابوں کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ بائبل مقدس کی طرح مسیحی نغمات پر مبنی شاعری کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں اگلی نسلوں تک بھی منتقل کیا جائے۔ پھر گیتوں کو ریکارڈ کرنے کا رجحان آیا تو آئے روز مقبول پرستاروں کے کیسٹ ریلیز ہونے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہر نئی مسیحی کیسٹ کو اپنے ذخیرہ میں جمع کرنا اور فراغت ملتے ہی گیت سننا میرا مرغوب ترین مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ اُس کے بعد سی ڈی اور ڈی وی ڈی کا دَور آیا تو آڈیو کے ساتھ ویڈیو گیتوں نے بھی کلیسیا کو پرستش کے کئی نئے انداز سکھائے۔ آج انٹرنیٹ، موبائل فون اور خاص طورپر یوٹیوب کی آمد کے بعد تو دیگر میدانوں کی طرح پرستش کے میدان میں بھی ایک انقلاب آ چکا ہے۔ تقریباً ہر روز نت نئے روح پرور گیت سننے اور دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کی باکمال شاعری، مدھر دھنیں اور بہترین بصری عکس بندی بلاشبہ میرے جیسے ہر پرانے بندے کے لئے ایک حیرت انگیز عجوبہ ہیں۔ الغرض، گیتوں کی کتابوں سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اب آن لائن ذرائع تک آ پہنچا ہے۔ صد شکر کہ خدا نے مجھے اپنی حینِ حیات میں یہ سارے دَور دکھائے ہیں جس سے مجھے کلام کی وہ آیت یاد آتی ہے جس میں لکھا ہے کہ،
’’اے میرے خُدا! اَے بادشاہ! میَں تیری تمجید کرونگا۔ اور ابدالآباد تیرے نام کو مُبارِک کہونگا۔ میَں ہر روز تجھے مُبارِک کہونگا۔ اور ابدالآباد تیرے نام کی ستایش کرونگا۔ خُداوند بُزرگ اور بیحَد ستایش کے لائق ہے۔ اُسکی بُزرگی اِدراک سے باہر ہے۔ ایک پُشت دُوسری پُشت سے تیرے کاموں کی تعریف اور تیری قُدرت کے کاموں کا بیان کریگی۔‘‘ (زبور 145: 1-4)
معبود اور عابد کے درمیان پرستش کا تعلق اور واسطہ پایا جاتا ہے۔ مسیحی کلیسیا میں خدا اور پرستش لازم و ملزوم ہیں یعنی پرستش ہماری کلیسیائی عبادتوں کا جزوِ لازم ہے اور پرستش کے بغیر کسی عبادت کو مکمل تصور نہیں کیا جا سکتا۔ روح سے معمور پرستش پر روح القدس کا ابر ٹھہر جاتا اور خدا کا تخت لگ جاتا ہے۔ پرستش خُدا کے دل کے بہت قریب ہے اور بائبل مقدس اِس حقیقت کی شاہد ہے کہ پرستار ہمیشہ سے خُدا کے بہت قریب رہے ہیں۔ لوسیفر سے لے کر داؤدؔ تک، پھر مکاشفہ کی کتاب کے جلالی اور روح پرور نبوتی مناظر سے دورِ حاضر تک، پرستش پورے عبادتی ماحول پر حاوی نظر آتی ہے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مکاشفہ کی کتاب میں جس آسمانی پرستش کی منظر کشی کی گئی ہے اُس پورے ماحول میں کسی کو دعا کرتے، کلام سناتے یا کوئی اَور ساکرامنٹ ادا کرتے نہیں دکھایا گیا ماسوائے پرستش کے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آسمان پر صرف اور صرف خدا اور برہ کی حمد و ثنا کے نغمے گائے جاتے ہیں اور گائے جاتے رہیں گے۔ اِسی مناسبت سے کہا جاتا ہے کہ آسمان پر ہم سب صرف پرستش کریں گے۔ اِس لئے یہ کہنا بہر صورت بجا ہے کہ پرستش ایک ابدی و دائمی عبادت ہے۔ پرستش کرنے سے ہم ابدیت کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑے استحقاق کی بات ہے کہ اِس رویِ زمین پر رہتے ہوئے ہم روح اور سچائی سے معمور پرستش کے ذریعے آسمان اور ابدیت کا حقیقی مزہ چکھ سکتے ہیں۔ ہالیلویاہ!
مَیں سمجھتا ہوں کہ پرستش منظوم منادی بھی ہے۔ پرستش ہر مسیحی ایماندار کا شیوہ ہے۔ پرستش دل کی زمین کو کلام کے لئے تیار کرتی ہے۔ پرستش قلب کا چین اور روح کی تسکین و غذا ہے۔ پرستش روحانی جنگ کا ایک نہایت مؤثر ہتھیار ہے۔ پرستش بندھنوں کو توڑتی ہے۔ یقین مانئے، ضخامت کا اندیشہ دامن گیر نہ ہو تو پرستش کے موضوع پر اتنا کچھ کہا جاسکتا ہے کہ مَیں لکھتے لکھتے تھک جاؤں اور آپ پڑھتے پڑھتے مگر تشنگی پھر بھی ختم نہ ہو۔ بہر کیف، میری دانست میں پرستش جیسے عمیق اور وسیع موضوع کو عالمی شہرت یافتہ پادری و شاعر جناب حزقی ایل سروشؔ نے کیا ہی منفرد انداز میں گویا ایک ہی مصرعے میں سمو کر گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہ،
؎ سب تاج یسوع تیرے قدموں تلے
اور مَیں سمجھتا ہوں کہ یہی پرستش کا مدعا و مقصد، ماحصل اور ہدف ہونا چاہئے کیونکہ حقیقی پرستش اپنی ہستی، اپنے مرتبے اور اپنے ہر تاج کو مسیح کی ہستی میں گم اور ضم کر دینے کا نام ہے۔
الہٰیاتی اعتبار سے بائبل مقدس میں شاعری کی پانچ کتب شامل ہیں جن میں ایوب، زبور، امثال، واعظ اور غزل الغزلات شامل ہیں البتہ کتابِ مقدس کے بعض دیگر حصوں میں بھی ہمیں جا بجا بہت سے گیت ملتے ہیں جن میں موسیٰ کا گیت، مقدسہ مریم کا گیت اور مکاشفہ کی کتاب کے پر کیف گیت شامل ہیں۔
پرستش کے موضوع پر بات کرتے ہوئے مَیں بطورِ خاص، برصغیر پاک و ہند میں پرستش و ستایش کی درخشندہ اُردُو تاریخ سے دو مقدس ہستیوں کے نام لینا ازحد ضروری بلکہ لازمی سمجھتا ہوں جن میں سے زبوروں کے میدان میں جناب پادری امام دین شہبازؔ ڈی ڈی اور روحانی گیتوں اور غزلوں کے میدان میں جناب پادری ارنسٹ ملؔ۔ مَیں یہاں اپنی، اپنی کلیسیا اور پوری ٹیم کی جانب سے اِن دونوں خادموں کو بالخصوص خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
فاختہ ورشپ لائبریری کے لئے گیتوں کی تالیف و تدوین سے لے کر اُنہیں موجودہ حتمی شکل دینے تک کے تمام مراحل میں میرے بیٹے اور خُدا کے خادم نے جس قدر محنت اور لگن سے کام کیا ہے وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ خداوند اِسے اپنی برکات سے مالا مال کرے تاکہ وہ اِسی طرح خُداوند کی خدمت میں مصروفِ عمل رہ کر خُدا اور اُس کی کلیسیا کی خبر گیری کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ نسلوں کے لئے اپنی پیشہ وارانہ خدمات کا سلسلہ بھی یونہی آگے بڑھتا رہے۔
ساتھ ہی ساتھ، میری دِلی دعا ہے کہ مسیحی نغمات کا یہ ذخیرہ آپ کی انفرادی، خاندانی اور کلیسیائی برکت اور ترقی کا وسیلہ بنے۔ آمین!
؎ تعریف ہو خُدا کے برّے کی