مسیح میں آپ کی سلامتی ہو!
اِس مضمون کے ذریعے میں فاختہ ورشپ لائبریری کے قیام کا پسِ منظر، احوال اور مقصد و ہدف آپ کی معلومات اور inspiration کے ساتھ ساتھ تاریخ کا حصہ بنانے کی غرض سے یہاں پیش کر رہا ہوں۔
اپنے والدِ گرامی جناب پادری رفاقت نذیرؔ اور والدہ ماجدہ پروین اختر صاحبہ کے زیر سایہ پرورش پانے کے دوران جہاں ہم نے خدمت سے متعلقہ اسرار و رموز ایک خادم گھرانے اور ایک نہایت بیدار کلیسیا میں رہ کر سیکھے وہیں مجھے، میرے بڑے بھائی پاسٹر امرت رضاؔ صاحب اور چھوٹے بھائی ایلڈر روبنؔ رضا صاحب کو پرستش کا ذوق اور جذبہ گویا روحانی وراثت میں ملا۔ رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ نامور اساتذہ سے موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی (سیالکوٹ کے مایہ ناز طبلہ نواز جناب استاد برکتؔ مسیح المعروف مہنگو خان سے لگ بھگ 7 سال باقاعدگی کے ساتھ طبلہ سیکھا اور استاد احمد حسینؔ سے گائیکی کی ابجد سیکھی)۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اِس ایپ کی تیاری کا سلسلہ لگ بھگ 20 سال پرانا اور منگلا ڈیم کی ٹھِل کالونی، ضلع جہلم میں واقع ہمارے گھر اور چرچ سے شروع ہوتا ہے جہاں مَیں نے آنکھ کھولی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مجھے بھی اپنے والد کی طرح ہر نیا گیت سیکھنے کی جستجو ہوتی تھی وہ بھی اِس حد تک کہ ہر نیا گیت اپنی ڈائری میں نہایت خوشخطی اور اہتمام کے ساتھ لکھنا میرا مرغوب ترین روحانی مشغلہ ہوا کرتا تھا اور ہر پہلی ڈائری بھر جانے کی صورت میں بازار سے نئی اور دیدہ زیب ترین ڈائری خریدنا بھی میرے اِس ذوق کا حصہ تھا۔ یوں کل مل ملا کر لگ بھگ آٹھ ضخیم ڈائریوں کا مواد تو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ فاختہ ورشپ لائبریری گویا اپنے جمع کردہ گیتوں کے ذخیرہ کو دُنیا کے ساتھ شیئر کرنا ہے۔
سن 2007ء میں جب ہم کراچی آ گئے اور یہاں قائم کردہ چرچ میں پروجیکٹر لگ گیا تو وہاں سے گیتوں کو صفحۂ قرطاس سے ڈیجیٹلائز کر کے پاور پوائنٹ سلائیڈز پر منتقل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کی ذمہ داری ہمارے سب سے چھوٹے بھائی سیمسن رضاؔ نے اُٹھائی اور یوں ہم نے لگ بھگ پانچ سے چھ برسوں کے عرصہ میں اپنے سارے گیتوں کو سلائیڈز پر منتقل کر دیا۔ اتنے سارے پاور پوائنٹ سلائیڈ شوز کو تیار کرنا، سنبھالنا، ہر عبادت کے لئے منتخب کرنا اور پھر اُنہیں اتوار کی لسٹ کے مطابق ترتیب دینا بلاشبہ ایک کارِ دشوار تھا۔
2017ء میں سوفٹ وئیر انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مَیں نے ایک طویل عرصہ تک مختلف سوفٹ وئیر ہاؤسز کے لئے مختلف پروجیکٹس پر کام کیا اور کرتے کرتے 2022ء میں میرے ذہن میں یہ آئیڈیا آیا کہ گیتوں کی کسی ایک بھی کتاب میں سارے گیت نہیں ملتے اور مل سکتے بھی نہیں۔ ایک گیت کسی کتاب میں ملتا ہے تو دوسرا کسی اَور کتاب میں۔ تو کیوں نہ عہدِ حاضر کے تمام مقبول گیتوں پر مشتمل ایک ایسا واحد پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں سارا ڈیٹا ایک ہی جگہ پر ذخیرہ کر دیا جائے اور وہ گوگل پر سرچ ایبل ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر سب مسیحیوں کے لئے قابلِ رسائی اور قابلِ استعمال بھی۔ بالخصوص مطلوبہ گیت کی تلاش کو بہر صورت سہل اور ممکن بنایا جائے۔
آج یوٹیوب جیسے وسیع، شہرہ آفاق اور عالمی مقبولیت کے حامل پلیٹ فارم کے منظرِ عام پر آنے کے بعد گیتوں کی آمد کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اُس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گیتوں کی کتابوں کے اندر تمام مقبول گیتوں کو سمونے کی کوشش ناممکن ہو کر رہ گئی ہے اور جس تیز رفتاری کے ساتھ موبائل فون نے ریڈیو، گھڑی، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، کیسٹ، سی ڈی، کاغذ، کتاب کو تقریباً متروک کر کے رکھ دیا ہے اِسی طرح ضخیم تر گیتوں کی کتب کا استعمال بھی اب ایک نئے زاوئیے پر ڈھل چکا ہے جسے ڈیجیٹلائز کرنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔اِسی ضرورت کے پیشِ نظر ہم نے یہ بیڑا اُٹھایا ہے۔
سن 2022ء کے اواخر میں، ہم نے اِس پروجیکٹ کو باقاعدہ طور پر عملی شکل دینا شروع کی تو ہمارے لئے سب سے پہلا چیلنج تھا ڈیٹا انٹری یعنی سب گیتوں کا ایک یونیفائیڈ ڈیٹابیس تیار کرنا۔ اِس ضمن میں میرے ساتھ میری اہلیہ فرحت اسٹیفنؔ اور چھوٹے بھائی سیمسن رضاؔ کے علاوہ میری والدہ نے جو محنت اور جدوجہد کی وہ واقعی قابلِ ذکر و ستائش ہے کیونکہ اِس حوالے سے ایک ایک گیت نہایت عرق ریزی کے ساتھ لفظ بہ لفظ ٹائپ کیا گیا تاکہ اِس لائبریری کو ہر ممکنہ حد تک سرچ ایبل بنایا جا سکے۔
یہاں یہ بتاتا چلوں کہ سوفٹ وئیر ڈیویلپمنٹ میں اُردُو ڈیٹا پر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ اُردُو حروفِ تہجی کا پہلا حرف ’’آ‘‘ ہی سرچ میں کوڈنگ کے ذریعے پکڑنا بہت مشکل تھا جس پر بہت وقت لگا، اور یہ موجودہ ٹیکنالوجی اے آئی کی آمد سے بہت پہلے کی بات ہے۔
گیتوں کا مواد جمع کرنے کا سلسلہ اپنی جگہ جاری تھا کہ 2023ء کے آخر سے مَیں نے لے آؤٹ کی کوڈنگ اور ڈیزائننگ کا کام شروع کیا۔ ہر کوڈ اپنے ہاتھ سے manually لکھا اور فائنل لے آؤٹ بنانے سے پہلے لگ بھگ دس فریم ورک بنائے اور پھر جو زیادہ موزوں، سہل اور دیدہ زیب لگا اُسے منتخب کر لیا گیا (جو اِس وقت آپ کے سامنے ہے)۔
ماہِ اپریل میں ہم نے اپنی پانچویں سالانہ شامِ کلوری پر ایک آف لائن اینڈرائیڈ ایپ (جلالی پرستش ایپ) بنا کر اِسے Beta ورژن کے طور پر باقاعدہ لانچ کیا۔ پھر کسی خیر خواہ کے بصیرت افروز مشورے سے یہ طے پایا کہ یوٹیوب پر موجود مقبول گیتوں کو بھی اِس ایپ میں شامل کرنا چاہئے، چنانچہ یہ ایک نیا رُخ تھا جس نے ہمارے مزید پانچ سے چھ ماہ لے لئے اور یوں تقریباً 2000 گیتوں سے وہ تعداد 3000 سے زائد گیتوں تک جا پہنچی۔
اپنی چھٹی سالانہ شامِ کلوری پر ہم نے اپنے چرچ میں ایک مسیحی مشاعرہ منعقد کرایا جس میں ہم نے مسیحی شعراء و ادباء کی نگارشات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے حوالے سے اپنی کاوش کو ’’فاختہ ڈاٹ آرگ‘‘ کی لانچنگ کے طو رپر شرکاء کے سامنے پیش کیا۔ پھر ہم نے مناسب جانا کہ جلالی پرستش ایپ کے تحت تیار کردہ سارے ڈیٹابیس کو فاختہ ڈاٹ آرگ کے ایک ذیلی سیکشن ’’فاختہ ورشپ لائبریری‘‘ کے طور پر اِسی کے اندر ضم کر دیا جائے۔
اب تک کی مجموعی کاوش کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے تاہم ابھی بہت سا کام باقی ہے جو بفضلِ خدا ساتھ ساتھ چلتا رہے گا کیونکہ ہم نے عزم کر رکھا ہے کہ ہم اِس ڈیٹابیس کو باقاعدگی کے ساتھ اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے اور خداوند کے فضل سے اِسے 10,000 سے زائد قدیم و جدید گیتوں کے ساتھ آراستہ و پیراستہ کر کے ساؤتھ ایشین چرچز کے لئے ایک مکمل ترین آرکائیو بنائیں گے۔ آئندہ اِس میں ہندی (دیوناگری) اور پنجابی (گرومکھی) متون بھی شامل کرنے کا خیال ہے۔
’’فاختہ ورشپ لائبریری‘‘کی تیاری میں ہم نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور پیڈ سروسز کو استعمال کرتے ہوئے دن رات محنت کرنے کے علاوہ دل کھول کر پیسہ بھی خرچ کیا ہے۔ آگے آپ کی مالی مدد، حوصلہ افزائی اور تعاون درکار ہے۔ اِس مد میں جمع ہونے والے ہدیہ جات اِس جیسے دیگر پروجیکٹس کی تیاری میں استعمال کیے جائیں گے:
اگر آپ ہمارے کسی پورے پروجیکٹ کو sponsor کرنا چاہیں تو اِس کے لئے بھی ہم آپ کے ممنون ہوں گے۔ اپنے ہدیہ جات بھیجنے کے حوالے سے ضروری معلومات کے لئے ہدیہ کا صفحہ ملاحظہ کریں۔