روایات پسندی کا رویہ ہمیں اپنی خُداداد بلاہٹ کے ساتھ وفاداری نبھانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے ۔ البتہ ، روایات ہمیں ماضی کا غلام بھی بنا سکتی ہیں اور اِن کی وجہ سے ہم اِس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ اصل اہمیت کی حامل چیز کون سی ہے ۔ اِس کی ایک مثال امریکہ کے ایک بہت چھوٹے گروہ میں دیکھی جا سکتی ہے جنہیں ’’ہک اینڈ آئی بیپٹسٹ (Hook and Eye Baptists) ‘‘ کہا جاتا ہے۔ پچھلی صدی کے دوران، جب کارخانوں میں بچوں کی مشقت کے حوالے سے کوئی مروجہ قوانین رائج نہیں تھے، تو بہت سے بچوں کو لباس پر بٹن ٹانکنے کے لئے بہت طویل گھنٹوں تک کام پر رکھا جاتا تھا۔ اِس سے نہ صرف وہ بچے تعلیم سے محروم رہ گئے بلکہ اُنہیں مجبوراً بہت کم اُجرت پر اور خوفناک حالات میں کام کرنا پڑا۔بہت سے مسیحی اِس عمل سے سخت پریشان تھے۔ ایک کلیسیا نے بٹنوں والے کپڑے پہننے سے انکار کر کے اِس سلوک کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ صرف وہی کپڑے پہنتے تھے جو بٹنوں کے بجائے ’’ہک اور آئی‘‘ (ہک اور کاج ) سے بند ہوتے تھے، اِسی وجہ سے اُن کا نام ’’ہک اینڈ آئی بیپٹسٹ‘‘ پڑ گیا۔ یہ ایک سماجی مسئلے پر بہت اچھا اور مناسب ردِعمل تھا۔ تاہم، آج بھی کچھ ’’ہک اینڈ آئی بیپٹسٹ‘‘ لوگ موجود ہیں۔ اگرچہ اب تو ایسے قوانین موجود ہیں جو بچوں کو اِس نوعیت کے ہر استحصال سے بچاتے ہیں، مگر وہ لوگ آج بھی اپنی اِسی روایت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب اِس روایت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں رہی، لیکن اِس گروہ کے لئے روایت بذاتِ خود اِس کے مقصد سے زیادہ اہم بن کر رہ گئی ہے۔