Loading

زندگانی کا یہ رستہ کبھی کھلنا تو نہ تھا

Zindagani ka yeh rasta kabhi khulna to na tha
دعائیہ کورسز، ایسٹر، غزلیات، عشائے ربانی| عارف راجرز بھٹی| 23|
+
زندگانی کا یہ رستہ کبھی کھلنا تو نہ تھا
تو نہ مرتا میری خاطر میں نے جینا تو نہ تھا
۱
جب وہ صورت میں نے دیکھی تو میرے دل نے کہا
اے مسیحا تیرا چہرہ کبھی ایسا تو نہ تھا
۲
غم تو جیون میں ہر اک شخص کے آتے ہیں مگر
مردِ غمناک کوئی بھی اُس کے جیسا تو نہ تھا
۳
شعلے اُٹھتے ہی رہے اور وہ جلتا ہی رہا
آگ میری تھی گناہ کی اُس نے جلنا تو نہ تھا
۴
راہ کانٹوں کی وہ تھی اور زخمی وہ قدم
تیری راہوں میں اے عارفؔ کوئی کانٹا تو نہ تھا
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector