سنا دو مجھ کو وہ پریم کہانی

Suna do mjh ko prem kahani
ایسٹر، غزلیات| ٹینا نادر| اسمبلیز آف گاڈ، سیالکوٹ کنونشن| 44|
+
سنا دو مجھ کو وہ پریم کہانی
پریم کہانی وہی پرانی
(۱)
کاہے اس کو سولی چڑھایا ، کاہے اس کا خون بہایا
کاہے اس پریمی کو ستایا ، کاہے اس کی قدر نہ جانی
(۲)
ہائے اگر وہ مارا نہ جاتا ، کون میرے اوپر غم کھاتا
کون مجھے پھر آ کے بچاتا، کس کو پڑی تھی جان گنوانی
(۳)
لوگوں سے اس کا ستایا جانا، اور وہ ان کا بخشا جانا
مرتے دم تک پریم نبھانا، اس کو پڑی تھی یہ فتح پانی
(۴)
کیا کچھ تارن ہار کیا ہے، مجھ پاپی کو پیار کیا ہے
جنت کا حقدار کیا ہے، بیٹے کی دے کے قربانی
Make Donation
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector