Loading

لو ہو گیا ہے زندہ بے آسروں کا چارہ

Lo ho gya zinda be-aasron ka chara
ایسٹر| 19|
+
لو ہو گیا ہے زندہ ، بے آسروں کا چارہ
وہ پیکرِ محبت ، مشکل کشا ہمارا
۱
بجتے ہیں آج ہر سو ، خوشیوں کے شادیانے
جشنِ طرب ہے جاری ، جھومیں نہ کیوں دیوانے
بحرِ گناہ سے آخر، ہے مل گیا کنارہ
۲
دارِ صلیبِ غم کو مصلوب نے اٹھایا
رنج و الم سے دکھی انسان کو بچایا
کفارۂ جہاں کو ہر دکھ کیا گوارا
۳
غنچۂ دل خوشی میں ہے آپ مسکرایا
گلزارِ آرزو پہ اب رنگِ نو ہے آیا
ربِ جلیل کا ہے دیکھا عجب نظارہ
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector