لہو لہو تھی سرزمیں دھواں دھواں تھا آسماں مَیں داستانِ کلوری کروں تو کس طرح بیاں ۱
وفا کا تاجدار تھا وہ مفلسوں کا یار تھا
اُسی کے جوشِ پاک پہ میرے گناہوں کا بار تھا
چلا تھا سُوئے کلوری اُٹھا کے دارِ عاصیاں
۲
میری شفا کے واسطے غموں کے جام پی گیا
میرے لئے ہی باپ سے وہ مانگتا رہا دُعا
میرے لئے مسیحا نے اُٹھائیں جتنی سختیاں
۳
اُسے طمانچے مار کے لباس بھی اُتار کے
حقارتوں سے بیوفا تھے منہ پہ اُس کے تھوکتے
وہ سہہ رہا تھا صبر سے عدو کی ساری بے ادبیاں
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.