لہو لہو تھی سرزمیں دھواں دھواں تھا آسماں

Lahu lahu thi sar-zameen dhuan dhuan tha aasman
ایسٹر، غزلیات| چاند محمود| یوسف نیر| 12|
+
لہو لہو تھی سرزمیں دھواں دھواں تھا آسماں
مَیں داستانِ کلوری کروں تو کس طرح بیاں
۱
وفا کا تاجدار تھا وہ مفلسوں کا یار تھا
اُسی کے جوشِ پاک پہ میرے گناہوں کا بار تھا
چلا تھا سُوئے کلوری اُٹھا کے دارِ عاصیاں
۲
میری شفا کے واسطے غموں کے جام پی گیا
میرے لئے ہی باپ سے وہ مانگتا رہا دُعا
میرے لئے مسیحا نے اُٹھائیں جتنی سختیاں
۳
اُسے طمانچے مار کے لباس بھی اُتار کے
حقارتوں سے بیوفا تھے منہ پہ اُس کے تھوکتے
وہ سہہ رہا تھا صبر سے عدو کی ساری بے ادبیاں
Make Donation
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector